BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 08:00 GMT 13:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جنرل کی بھول بھلیاں
 

 
 
سیاسی کارکنوں اور طالب علموں کی شرکت سے اس تحریک نے قومی مزاحمت کا روپ دھار لیا ہے
ایمرجنسی کے نفاذ کو دو ہفتے گزر چکے لیکن ملک کی کشتی تین نومبر کی شام آنے والے طوفان سے ابھی تک سنبھل نہیں پائی۔ آئینی، قانونی اور سیاسی محاذوں پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو پایا بلکہ ہرگزرتے دن کے ساتھ صورت حال گمبھیر ہو رہی ہے۔ جمعرات کی شام چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم میں ترمیم کے ذریعے ایمرجنسی اُٹھانے کا اختیار صدرِ پاکستان کو سونپ دیا۔ گویا آئین ہی موم کی ناک نہیں، عبوری آئینی حکم بھی جنرل صاحب کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ضرورتوں کے تابع ہے۔

عبوری آئینی حکم میں اس ترمیم کا پس منظر جاننے کے لیے تین نومبر کے بعد سے اب تک کی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ تین نومبر سے اب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی ہی نہیں بہہ گیا ان منہ زور موجوں نے دریا کے دونوں کناروں پر سیاسی اور دستوری میدانوں میں بہت سی تباہی بھی پھیلائی ہے۔ صدر پرویز مشرف کا یہ کہنا درست ہے کہ انہیں ہنگامی حالت نافذ کرنے، آئین موقوف کرنے اور عبوری آئینی حکم کے ذریعے عدلیہ کی بنیادوں میں گدھے کا ہل چلانے کا ناخوشگوار فرض بڑے بوجھل دل کے ساتھ ادا کرنا پڑا۔ گزشتہ آٹھ برس میں صدر مشرف سے جب بھی بنیادی نوعیت کا کوئی سوال کیا گیا تو اُن کا جواب یہی ہوتا تھا کہ جب ہم دریا پر پہنچیں گے تو اُسے عبور کرنے کے لیے پُل بھی تعمیر کر لیں گے۔ اگر پُل بنانے کی ذمہ داری دستور کے عسکری انجنیئر شریف الدین پیرزادہ کے پاس ہو تو سفر میں بعض ایسے دریا بھی درپیش ہو تے ہیں جنہیں پار کرنے کی کوشش کرنے والے لشکر طغیانیوں میں کھو جاتے ہیں اور دیکھنے والے حیرانیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔

تین نومبر کے اقدام سے پیدا ہونے والی صورت حال کا مختصر جائزہ یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کی ناؤ چند ہچکولے کھانے کے بعد ڈوب گئی۔ عدلیہ کی دیواریں اس بُری طرح سے منہدم ہوئی ہیں کہ اسکی ساکھ کا ملبہ اُٹھانے میں بھی کئی عشرے درکار ہوں گے۔ ملک کا متفقہ آئین موقوف کرنے سے حکومت کے آئینی جواز پر سے انجیر کا محاوراتی پتہ بھی ہٹ گیا ہے۔ جس ریاست کی عملداری مسلح شورشوں کے نرغے میں تھی، اُس کے وفاق کی بنیاد بھی ہل گئی ہے۔

ایمرجنسی کا جواز
 ملک کے شمال مغربی حصوں میں مذہبی شدت پسندوں کے خلاف حکومتی حکمتِ عملی میں کوئی ایسی تبدیلی سامنے نہیں آسکی جسے ہنگامی حالت کے کھاتے میں ڈالا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک نے پاکستانی حکومت کا یہ نقطۂ نظر تسلیم کرنے سے قریب قریب انکار کر دیا ہے
 
اقتدار کے پیشہ ور کاسہ لیس یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ دستور ہی وفاق کی اکائیوں کو جوڑنے کا تانا بانا فراہم کرتا ہے۔ معاشرتی پسماندگی اور کمزور جمہوری ثقافت کی موجودگی میں قدرے آزاد ذرائع ابلاغ ہی پاکستان کو مہذب معاشروں کی صف میں شامل کرنے کا واحد اشاریہ تھے۔ عبوری آئینی حکم کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ پر کڑی پابندیوں کی یلغار سے یہ سائبان بھی جاتا رہا۔ حکومت کے ناپسندیدہ نجی ٹی وی اور ریڈیو چنیل بند پڑے ہیں جبکہ اخبارات پر پیمرا کے خوفناک ضابطوں کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔

اس برس مارچ میں وکلا تحریک کے خدوخال بڑی حد تک پیشہ ورانہ تھے۔ تین نومبر کے بعد سیاسی کارکنوں اور طالب علموں کی شرکت سے اس تحریک نے قومی مزاحمت کا روپ دھار لیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ طالب علموں کا احتجاج ہنگامہ آرائی کی شہرت رکھنے والے تعلیمی اداروں کی بجائے ملک کے اعلٰی ترین نجی تعلیمی اداروں سے شروع ہوا ہے جن کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ یہاں تعلیم پانے والے نوجوان اپنے پیشہ وارانہ مفادات اور فیشن سے آگے نہیں
سوچتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تیس برس میں نوجوانوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کرنے کی سرکاری تعلیمی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ البتہ جن اداروں میں تعلیمی معیار کا کچھ شائبہ بچ رہا تھا، قومی ذمہ داری کی چنگاری بھی وہیں سے اُٹھی ہے۔

ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ عملی طور پر صدر مشرف سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آٹھ نومبر کے بعد سے بینظیر بھٹو نے صدر مشرف کے استعفے کا مطالبہ کر کے دراصل اسی عوامی رائے میں اپنی طاقتور آواز شامل کی ہے۔ اُدھر قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ(ق) کی عوامی تائید پہلے بھی موہوم تھی، اقتدار سے رسمی علیحدگی کے بعد اس کے لیے سرکاری چھتر چھایا تلے صدر مشرف کی حمایت کرنا اور بھی مشکل ہو گا۔ عین اُس وقت جب مخالف سیاسی قوتوں میں اتفاقِ رائے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، صدر مشرف کے سیاسی پرندے اپنے آشیانوں کی طرف مائل بہ پرواز ہیں۔

ملک کے شمال مغربی حصوں میں مذہبی شدت پسندوں کے خلاف حکومتی حکمتِ عملی میں کوئی ایسی تبدیلی سامنے نہیں آسکی جسے ہنگامی حالت کے کھاتے میں ڈالا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں رائے عامہ اور حکومتوں نے پاکستانی حکومت کا یہ نقطۂ نظر تسلیم کرنے سے قریب قریب انکار کر دیا ہے کہ ہنگامی حالت دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔

مطلق العنان اقتدار کے آخری مرحلے
 فروری 1969 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اُنہی سیاسی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس بلائی تھی جنہیں وہ اقتدار کے دس برسوں میں گھاس ڈالنے کے روادار نہیں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 کے موسم گرما میں پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات میں کم وبیش وہ تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے جو مارچ 1977 میں ان کے لیے قابل قبول نہیں تھے
 

عبوری آئینی حکم میں حالیہ ترمیم سے اشارہ ملتا ہے کہ صدر نے خود پر دباؤ کم کرنے اور نئی صف بندی کے لیے وقت کے حصول کی غرض سے جزوی طور پر مراعات دینے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر مشرف شکستہ حال عدالت عظمٰی سے صدارتی انتخاب کے بارے میں جیسے تیسے فیصلہ حاصل کر کے اگلے دو ہفتوں میں وردی بھی اتار دیں گے اور جنوری کے پہلے ہفتے میں انتخابات بھی منعقد ہوں گے۔ تاہم جنرل مشرف فوری طور پر ہنگامی حالت اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہنگامی حالت ختم کرنے کا اختیار جنرل مشرف سے صدر مشرف کو منتقل کرنے کا مطلب یہی ہے کہ چیف آف آرمی سٹا ف کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی ہنگامی حالت برقرار رکھی جائے اور صدرمشرف اپنی صوابدید کے مطابق اسے ختم کرنے کا فیصلہ کریں۔

جزوی رعایتوں کی یہ حکمتِ عملی مطلق العنان اقتدار کے آخری مرحلے کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ فروری 1969 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے اُنہی سیاسی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس بلائی تھی جنہیں وہ اقتدار کے دس برسوں میں گھاس ڈالنے کے روادار نہیں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 کے موسم گرما میں پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات میں کم وبیش وہ تمام مطالبات تسلیم کر لئے تھے جو مارچ 1977 میں ان کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ تاہم مطلق العنان اقتدار کی ہئیت ترکیبی ایسی ہوتی ہے کہ اس کی چوٹی سے پھسلنے والے حکمران کے لیے سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں ہوتا کیونکہ شخصی اقتدار کے عروج پر آمریت ایک ایک کر کے وہ تمام کھڑکیاں بند کر دیتی ہے جو جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہوتی ہیں اور جن کا مقصد پرامن مکالمے اور اختلافِ رائے کے ذریعے معاملات کی بروقت اصلاح ہوتا ہے۔ مطلق العنان اقتدار کا زوال بھی مطلق، حتمی اورمکمل ہوتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے شہرہ آفاق ادیب گبرئیل گارشیا مارکیز کے لفظوں میں جنرل اپنی بھول بھلیوں میں کھو چکا ہے۔ کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا اور آمریت تنہائی کا شکار ہو چکی ہے۔

وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں

 
 
تین پرویز
تین پرویزوں کی دوستی کی سبق آموز کہانی
 
 
پی پی پی’چاروں جانب سناٹا‘
منظم تحریک سیاسی جماعتوں کے بناء ناممکن
 
 
جنرل مشرفآٹھ سال بعد بھی
سب سے پہلے پاکستان، پر اس سے پہلے ’میں‘
 
 
 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
 
 
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
 
 
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
 
 
احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
 
 
اسی بارے میں
وکلاء ریمانڈ پر جیل روانہ
06 November, 2007 | پاکستان
پی سی او چیلنج، درخواست واپس
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد