BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 August, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
 

 
 
احمد فراز
اقبال اور فیض کے بعد قبولِ عام کا جو درجہ فراز کو حاصل ہوا وہ اُردو شاعری میں اور کسی کو نصیب نہ ہوا
چودہ جنوری 1931 کو نوشہرہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہونے والے پٹھان بچے احمد شاہ نے 78 برس بعد اسلام آباد کی ایک علاج گاہ میں اُردو کے مقبول ترین شاعر احمد فراز کے روپ میں دم توڑ دیا۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

اقبال اور فیض کے بعد قبولِ عام کا جو درجہ فراز کو حاصل ہوا وہ اُردو شاعری میں اور کسی کو نصیب نہ ہوا۔

اتفاق سے یہی دور برِصغیر میں غزل گائیکی کی ترویج کا دور بھی تھا اور نورجہاں، فریدہ خانم، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت چِترا اور پنکج اُداس وغیرہ اُردو غزل کو تنگنائے کُتب سے نکال کر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور کیسٹ کے ذریعے گھر گھر اور گلی گلی پہنچا رہے تھے۔

احمد فراز نے اس مقبولیت کا کچھ مزہ تو پشاور میں اپنی طالب علمی کے دوران ہی چکھ لیا تھا لیکن عملی زندگی شروع کرنے کے بعد اسی مقبولیت کی بناء پر انھیں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

1976 میں وہ اکادمی ادبیات کے بانی ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور بعد میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی نگرانی بھی انھیں سونپی گئی۔ سن 2004 میں انھیں ادبی خدمات کے صِلے میں ’ہلالِ امتیاز‘ بخشا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے صدر مشرف کی پالیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ اعزاز واپس کردیا۔

قبل ازیں وہ صدر ضیا الحق کے دور میں حکومت کے زیرِ عتاب رہے تھے اور کئی برس تک انھوں نے ملک سے باہر رہنے کو ترجیح دی تھی۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران فراز کی شاعری کے تیرہ مجموعے منظرِ عام پر آئے اور ہر مجموعہ متعدد بار شائع ہوا۔ اب اُن کی یہ تیرہ کتابیں ایک ضخیم جلد میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔

شاعر، ادیب اور سماجی ذمہ داریاں
 شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اسکی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا
 
احمد فراز

ایک شاعر کے طور پر فراز اگرچہ صحتِ زبان کے ساتھ ساتھ اوزان و بحور پر دسترس اور شعر کی تکنیکی باریکیوں سے واقفیت کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اس کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شحضیت اگرچہ اُن کا سیاسی آئیڈیل تھی لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ ملک کی سیاسی صورتِ حال سے سخت نالاں تھے۔ ججوں کی برطرفی پہ وہ انتہائی دِل گرفتہ رہے اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کو نوکریاں، وزارتیں، ٹھیکے اور پرمٹ دِلوانے والے کمیشن ایجنٹوں کا ایک گروہ قرار دیتے رہے۔

میڈیا پہ ہونے والی گفتگو کے دوران انھوں نے این آر او کو رشوت کی ایک قِسم قرار دیا تھا جس کے ذریعے عوام کا اربوں روپیہ لوٹ لے جانے والے ٹھگ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں۔

 
 
احمد فراز فراز کی آواز
احمد فراز کو دیکھیں اور سنیں
 
 
احمد فراز احمد فراز کہتے ہیں
دکھوں کے باوجود لوگوں نے بہت پیار دیا ہے۔
 
 
اسی بارے میں
فراز تین اگست کو وطن واپس
01 August, 2008 | پاکستان
آچکےاب توشب و روز۔۔
17 August, 2006 | ملٹی میڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد