BBC Urdu

صفحۂ اول > فن فنکار

آثارِ جنوں، جہانِ رومی، شریمد بھگوت گیتا

20 اگست 2011 17:17 PST

عارف وقار

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

تین کتابی

کتاب: آثارِ جنوں

شاعر: شیخ عطاء اللہ جنوں

تدوین: محمد افتخار شفیع

ناشر : شعبہء اُردو گورنمنٹ کالج ساہیوال

صفحات: 142

قیمت: 120 روپے

شعری مجموعے ہمارے دائرہء کار سے خارج ہیں اور کتابوں کے تبصرے میں انھیں کبھی شامل نہیں کیا جاتا لیکن زیرِ نظر کتاب ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک گُم گشتہ شاعر کی دریافت ہے۔ شیخ عطااللہ نے 1961 میں وفات پائی۔ اگرچہ اُن کی پیدائش مشرقی پنجاب کی تھی لیکن تمام عمر ساہیوال میں بسر ہوئی۔ اُن کے والد شیخ اسد اللہ محسود فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے اور خود عطااللہ کا بنیادی رجحان بھی فارسی کی طرف تھا۔ اُن کا جو کلام دستیاب ہو سکا ہے اس میں ایک بڑا حصّہ فارسی غزل اور رباعی پر مبنی ہے۔ یہ فارسی کلام پہلی بار 1965 کے منٹگمری گزٹ میں منظرِعام پر آیا جو کہ مصطفٰے زیدی کی انتظامی نگرانی میں شائع ہوا تھا۔ اُس موقع پر یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ رقم کی گئی تھی کہ شیخ عطا اللہ کا اُردو کلام میسر نہیں ہے۔ اگرچہ شیخ صاحب کے شاگردوں میں بہت سے سرکاری افسر اور دیگر صاحبِ حیثیت لوگ شامل تھے لیکن انھوں نے کلام کو یک جا کرنے یا کتابی شکل میں شائع کرانے کی طرف قطعاً کوئی توجہ نہ دی۔

کلام کی اشاعت کا یہ اعزاز اب نصف صدی بعد اُن کے مقامی مداحوں کو حاصل ہوا ہے جن کے سر خلیل محمد افتخار شفیع گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہ اُردو میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اُنھی کی شبانہ روز جہد و کاوش سے یہ بکھرے ہوئے موتی ایک لڑی میں پروے گئے اور آج کا قاری شیخ عطا اللہ کے نام اور کلام سے شناسا ہو سکا۔

شاعر کا کلام کلاسیکی روایت میں ڈوبا ہوا ہے اور مضامین بھی اگرچہ وہی ہیں جنھوں نے صدیوں تک فارسی اور اُردو غزل کے گلستانوں کی آبیاری کی ہے، لیکن ادائیگی اور آھنگ مُنفرد ہے۔ نمونے کے اِن اشعار میں ملاحظہ کیجئے کہ حمدیہ مضمون میں بھی کیسی شوخی اور طنز کا مظاہرہ کیا ہے:

خود وقار اپنا نہ کھو ہم بے وقاروں سے نہ کھیل

قادرِ مطلق ہے تو بے اختیاروں سے نہ کھیل

اے امیدِ حسرت افزاء اے سرابِ دشت یاس

جا مرے آنسو نہ پونچھ اِن آبشاروں سے نہ کھیل

کچھ نشیمن اس سے آگے بھی ہیں اے برقِ نگاہ

آسمانوں تک نہ رہ جا، چاند تاروں سے نہ کھیل

برق طلعت نازنینوں کی نہ زلفوں سے الجھ

او دلِ مرگ آرزو بجلی کے تاروں سے نہ کھیل

کلام سے پہلے شاعر کی شخصیت اور شاعری کا ایک جامع تعارف موجود ہے جسے کلام کے مُرتب محمد افتخار شفیع نے اِن الفاظ پہ ختم کیا:

ٰ ٰ شیخ عطا اللہ جنوں کی شاعری کا فکری و فنی تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایک پختہ کار شاعر تھے، الفاظ کے دروبست اور استعمال کے ہنر پر ان کو بہت سے دیگر شعرا پر فوقیت حاصل تھی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی رچاو کے ساتھ ساتھ جدید موضوعات بھی قدرے فلسفیانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ شاعری میں اپنے خیالات اور نمایاں رجحان کی مدد سے انھوں نے افسانہء حسن و عشق کی فلسفیانہ توجیہ کی ہے۔ غزل اور رباعی کے ایک اہم شاعر کے طور پر مولانا جنوں کی ادبی حیثیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی برِصغیر میں اردو فارسی کی روایت ان کے بغیر مکمل ہو سکتی ہے۔ ٰ ٰ

کتاب میں شیخ عطاء اللہ جنوں کی ایک نایاب تصویر اور خود اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر کا عکس بھی موجود ہے جس سے اس مجموعہء کلام کی اہمیت سہ چند ہوگئی ہے۔

کتاب: جہانِ رومی

مصنف: مرزا عبدالباقی بیگ

ناشر : وزارتِ اطلاعات و نشریات حکومتِ ہند

صفحات: 148

قیمت: 100 روپے

مولانا روم کے آٹھ سو سالہ جشنِ ولادت کے دنوں میں اُن کے کلام اور سوانح کے بارے میں تمام مغربی دنیا میں ایک نئی لہر اٹھی اور انگریزی کے علاوہ جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں اس موضوع پر بہت سا نیا کام منظرِ عام پر آیا۔ مغربی دانش ور اس بات پہ متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مولانا روم صوفیا کے امام ہیں اور ان کا کلام جس انداز میں ہماری روح کی گہرائیوں کو چھوتا ہے وہ انھی کا حصّہ ہے۔ جدید مغربی علماے شعر و ادب کا کہنا ہے کہ مادہ پرستی کے قعرِ مذلت میں گری ہوئی انسانیت کو آج مولانا روم کی بصیرت درکار ہے: اس گھُپ اندھیرے میں روشنی کی یہی کرن اُن کی راہنمائی کر سکتی ہے۔

مغرب میں اس تمام پذیرائی کے ساتھ ساتھ اہلِ مشرق نے بھی ٰ ٰ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کا شغرٰ ٰ اپنے عظیم محسن کو یاد رکھنے کے لئے عالمی سیمنار منعقد کئے، خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا اور مولانا کے بارے میں کچھ نئی تحریریں بھی منظرِ عام پر آئیں۔

زیرِ نظر کتاب اگرچہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن اس کی حیثیت کسی فلسفیانہ تنقید و تبصرے کی بجائے محض ایک ابتدائی تعارف کی ہے اور وہ لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں جو مولانا روم کے بارے میں بالکل کچھ نہیں جانتے۔

مصنف نے مندرجات کو پانچ حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے پہلے مولانا روم کی مختصر سوانح دی گئی ہے اور ان کے شعر و فلسفہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔

دوسرے حصّے میں مولانا روم کی تصنیفات کا تعارف ہے جس میں مثنویِ مولویِ معنوی اور دیوانِ کبیر کے علاوہ مولانا روم کے مکتوبات بھی شامل ہیں۔

تیسرا حصّہ مولانا کی تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے جس میں علاوہ دیگر موضوعات کے، ان کا نظریہء عقل و عشق، خیر و شر اور جبر و قدر پیش کیا گیا ہے۔

آخری دو ابواب میں اقبال پر رومی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بھی جانچا گیا ہے کہ آج کی مغربی دانش مولانا کے کلام سے کس طرح فیض حاصل کر رہی ہے۔

مرزا عبدالباقی بیگ نے آسان فہم اور رواں دواں نثر میں اپنے خیالات پیش کئے ہیں تاکہ وہ نوجوان بھی اس کتاب سے استفادہ کر سکیں جو دانشِ مشرق سے کماحقہ، واقفیت نہیں رکھتے۔

کتاب کو انتہائی عمدہ کاغذ پر خوبصورت ترین فونٹ میں شائع کیا گیا ہے اور قیمت اتنی کم رکھی گئی ہے کہ ایک طالبِ علم بھی اپنے جیب خرچ سے اسے خرید سکتا ہے۔

کتاب: شریمد بھگوت گیتا

منظوم ترجمہ: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم

ناشر : سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور

صفحات: 154

قیمت: 200 روپے

بھگوت گیتا کا لفظی مطلب ہے: الوہی نغمہ

مہا بھارت کی مشہور جنگ میں جب کورو اور پانڈو اپنی اپنی فوج لے کر آمنے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں تو پانڈو سپاہ سالار ارجن مخالف فوج پر ایک نگاہ ڈالتا ہے جہاں اسے اپنے بھائی بند اور عزیز و اقارب صف آراء نظر آتے ہیں۔ اپنے دادا، چچا، استاد اور دیگر قابلِ احترام ہستیوں کو مدِّ مقابل دیکھ کر ارجن جذباتی ہو جاتا ہے اور اپنے رتھ بان کرشن جی سے کہتا ہے کہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کے خون سے ہم ہاتھ کیسے رنگ سکتے ہیں۔ میں اس جنگ میں حصّہ نہیں لے سکتا۔

کرشن جی جواب دیتے ہیں کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینا ہمارا فرض ہے اور فرض میں کوتاہی نہیں کی جاسکتی۔ دونوں کا مکالمہ جاری رہتا ہے اور بالآخر ارجن جنگ پہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بے جگری سے لڑتا ہے کہ ظالم کورؤں کو شکستِ فاش ہو جاتی ہے۔ کرشن جی اور ارجن کا یہ طویل مکالمہ ہی اصل میں بھگوت گیتا کا متن ہے۔

سنسکرت کی اس نظم کو ہندو دھرم میں ایک بنیادی صحیفے کا درجہ حاصل ہے لیکن ترجموں کے ذریعے اسکا متن دنیا کے ہر کونے میں پہنچا اور اس کے مداحوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر قوم کے لوگ شامل ہیں۔

گیتا کا اولّین ترجمہ فارسی میں ہوا تھا جو کہ شہنشاہِ اکبر کے درباری دانش ور فیضی نے کیا تھا۔ اس کے بعد تو گویا دبستان کھُل گیا۔۔۔

اُردو میں اس نظم کے کم از کم پچاس ترجمے ہو چکے ہیں جن میں نظیر اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی، حکیم اجمل خان اور خواجہ دل محمد کے تراجم بہت معروف ہیں۔ زیرِ نظر ترجمہ پروفیسر خلیفہ عبدالحکیم کے زورِ قلم کا نتیجہ ہے۔

خلیفہ صاحب 1893 میں لاہور کے ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1917 میں یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہو کر جرمنی چلے گئے اور ہائیڈل برگ سے فلسفے میں پی۔ ایچ۔ ڈی کر ڈگری حاصل کی۔

1949 میں خلیفہ صاحب پاکستان آگئے اور یہاں ادارہ ثقافتِ اسلامیہ قائم کیا۔ خلیفہ عبدالحکیم، مولانا روم، مرزا غالب اور اقبال کے رمز شناس تھے اور ان تینوں شخصیات پر اُن کی گراں قدر تصانیف موجود ہیں۔

بھگوت گیتا سے وہ انگریزی تراجم کے ذریعے متعارف ہوئے اور بعد میں انھوں نے مارکیٹ میں موجود اُردو کے نثری اور منظوم تراجم پر بھی غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ٰ ٰ گیسوئے گیتا ابھی منت پذیرِ شانہ ہے ٰ ٰ چنانچہ انھوں نے ایک نئے ترجمے کا بیڑا اٹھایا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے ارجن کے جذبات کا نقشہ کچھ اسطرح کھینچتے ہیں:

ذرا رتھ کو اے جانِ جاں روک لے

دو افواج کے درمیاں روک لے

کہ اعدا کو دیکھوں ذرا غور سے

ہیں آمادہء جنگ کس طور سے

میں ان کو ذرا اِک نظر دیکھ لوں

نگاہوں سے اُڑتے شرر دیکھ لوں

جو دیکھا تھا نظارہ تھا اک عجیب

کہ دشمن تھے سارے عزیز و قریب

وہاں پر تھے اپنے ہی سب رُوبرُو

کوئی تھا بزرگ اور کوئی گرُو

طبعیت پہ طاری ہوا رنج و غم

بہادر کھڑا تھا سراپا الم

شجاعت وہاں کالعدم ہوگئی

زبان خشک اور آنکھ نم ہوگئی

بدن پر کھڑے ہو گئے رونگٹے

یگانوں سے کس طرح کوئی لڑے

لگاؤ ہے جن سے ہوکیوں اُن سے لاگ

مرے تن بدن میں سلگتی ہے آگ

سب اپنے عزیزوں کا ہے سامنا

ہے مشکل کماں ہاتھ میں تھامنا

نظر آرہے ہیں سب الٹے شگوں

گراؤں میں کس طرح اپنوں کا خوں

خلیفہ عبدالحکیم کا یہ ترجمہ عرصہ دراز سے ناپید تھا۔ سنگِ میل پبلیکیشنز نے اسے انتظار حسین کے ایک وقیع پیش لفظ کے ساتھ پھر سے شائع کرکے وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔

خوبصورت کتابت و طباعت، دلکش ٹائیٹل اور مضبوط جِلد بندی والی اس کتاب کی قیمت صرف 200 روپے مقرر کر گئی ہے جو کہ انتہائی مناسب ہے۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر