BBC Urdu

صفحۂ اول > فن فنکار

بھارتی فلمیں عریانی دکھانے میں آگے:اقوامِ متحدہ

فیس بُک ٹِوِٹر گوگل
24 ستمبر 2014 17:48 PST

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت فلموں میں پرکشش خواتین کو دکھانے میں سرفہرست ہے اور وہاں بننے والی فلموں کے 35 فیصد نسوانی کرداروں میں کسی نہ کسی حد تک عریانی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے عالمی پیمانے پر مقبول فلموں میں خواتین کے کرداروں کی تصویر کشی پر پہلی بار ایک سروے کروایا ہے جس کی رپورٹ میں یہ باتیں سامنے آئی ہیں۔

’میڈیا میں جنس‘ کے عنوان کے تحت یہ مطالعہ اقوام متحدہ کے تعاون سے جینا ڈیوس انسٹی ٹیوٹ نے کیا ہے۔

یو این ویمن اور راک فیلر فاؤنڈیشن نے دنیا بھر میں بننے والی فلموں میں خواتین کے خلاف گہرے تعصبات، خراب اور روایتی شبیہ، خواتین کی جنسیت اور اہم کرداروں میں ان کی کم نمائندگی کا ذکر کیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق بھارتی فلموں میں خواتین کے کرداروں کی جنسیت کو بڑے پیمانے پر نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے اور خواتین کے مرکزی کرداروں والی فلمیں کم ہوتی ہیں، جبکہ جن میں فلموں میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے وہ کم کامیاب ہوتی ہیں۔

دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مبنی ہے تاہم فلموں کے اہم کرداروں میں ایک تہائی سے بھی کم خواتین ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں برطانیہ اور امریکہ کے اشتراک سے بننے والی اور بھارتی فلمیں بہت نیچے ہیں۔

امریکی اور برطانوی فلم میں بولنے والے کرداروں میں نسوانی کردار صرف 23.6 فی صد ہوتے ہیں جبکہ بھارتی فلموں میں یہ شرح 24.9 فی صد ہے۔

برطانیہ، برازیل اور جنوبی کوریا کی فلموں میں بولنے والے خواتین کرداروں کی سب سے زیادہ نمائندگی پائی گئي ہے تاہم ان ممالک کی فلموں میں بھی بولنے والی خواتین کی موجودگی بس 35.9 سے 38 فی صد کے درمیان ہے۔

دنیا بھر کی فلموں میں خواتین کرداروں کی جنسیت کو اجاگر کرنا عام سی بات ہے جس میں مردوں کے مقابلے خواتین کو جنسی طور پر دو گنا زیادہ نمایاں، عریاں، کم کپڑوں میں، پوری طرح، یا نیم برہنہ دکھایا جاتا ہے، جب کہ فلموں میں انھیں پانچ گنا زیادہ دفعہ دلکش کہا جاتا ہے۔

خواتین کو سیکسی لباس میں پیش کرنے میں جرمنی اور آسٹریلیا کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر ہے، جب کہ 25.2 فی صد کے ساتھ پرکشش خواتین کو فلموں میں دکھانے کے معاملے بھارت سرفہرست ہے۔

بھارت میں تقریباً 35 فی صد خواتین کو قدرے برہنگی اور عریانی کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بھارت میں خواتین ہدایت کاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کی تعداد بھی نسبتاً کم ہے۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر