BBC Urdu

صفحۂ اول > پاکستان

سندھ کے مقبول مصنف طارق عالم چل بسے

12 جون 2011 15:24 PST

سندھ میں نوجوانوں کے مقبول مصنف طارق عالم ابڑو سنیچر کی شب مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تریپن برس تھی۔

گزشتہ کئی برس سے وہ گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا تھے اور پچھلے دنوں تکلیف بڑھنے کے بعد انہیں کراچی میں واقع سول ہپستال میں داخل کرادیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کر گئے۔

انیس سو چھیاسی میں فشارِ خون کے باعث طارق عالم کے گردے ناکارہ ہوگئے تھے۔ ان کے ایک مداح اور دوست اور سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر نثار احمد نورانی نے انہیں ایک گردہ عطیہ کیا تھا۔

پچھلے دنوں ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ ان جگر خراب ہوچکا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں بھارت سے علاج کرانے کا مشورہ دیا ، جہاں علاج کا تخمینہ ساٹھ لاکھ روپے بتایا گیا۔

طارق عالم کی زندگی بچانے کے لیے ان کے دوست اور مداح سندھ بھر میں چندہ جمع کر رہے تھے اور اس سلسلے میں اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے۔

صوبائی حکومت نے طارق عالم کے خاندان کو علاج سرکاری اخراجات پر کرانے کی یقین دہانی کرائی مگر بعد میں انہیں صرف چھ لا کھ روپے امدد ی پیشکش کی گئی جو ان کی خاندان نے قبول نہیں کی۔

طارق شارٹ اسٹوری رائٹر یعنی مختصر کہانی نویس تھے مگر سندھی زبان میں ان کے ناول رھجی ویل منظر (کچھ رہ جانے والے مناظر) نے سندھ بھر میں مقبولیت حاصل کی یہ کہانی سندھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم نوجوانوں کے رومانس اور مشکلات کا احاطہ کرتی ہے۔

ان کے دیگر ناولوں میں رات جی سانت میں سوچوں (رات کی خاموشی میں سوچ) اور سنجانپ جی گولا (شناخت کی تلاش) شامل ہیں۔

ان کے دوستوں کے مطابق زندگی کے آخری دنوں میں وہ سماجی سیاسی ناول لکھنے کے خواہشمند تھے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی۔

طارق نثر کے علاوہ شاعری بھی کیا کرتے اور سندھی اخبارات میں سیاسی سماجی موضوعات پر بھی اظہار خیال کرتے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے بھی کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ایک ڈرامہ سیریل چھانورو (سایہ) بھی شامل تھا۔

طارق عالم دس اپریل انیس سو اٹھاون کو قمبر میں پیدا ہوئے۔ وہ انیس سو پچہتر میں ایک نظم لکھ کر ادبی میدان میں داخل ہوئے، انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں ملازمت کی اور آخری دنوں میں وہ سندھی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ادبی جریدے مہران کی ادارت کرتے تھے۔

طارق عالم کی تدفین اتوار کو جام شورو میں کی جارہی ہے۔ ان کے سوگواروں میں ایک بیوہ اور دو بیٹے شامل ہیں۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر