BBC Urdu

صفحۂ اول > پاکستان

پنجاب میں بسنت پر عائد پابندی برقرار

25 فروری 2012 07:01 PST

پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے موسم بہار کی آمد پر بسنت کے تہوار کو منانے پر عائد پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

یہ بات لاہور ہائی کورٹ کے روبرو ضلعی رابطہ آفسر یعنی ڈی او کی طرف سے بتائی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے سنیئر جج جسٹس عمر عطاء بندیال نے مقامی وکیل کی درخواست پر پنجاب حکومت سے یہ جواب طلب کیا تھا کہ آیا اس فروری میں بسنت کا تہوار منانے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

ڈی سی او لاہور کے وکیل افتخار میاں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے بسنت کا تہوار منانے پر عائد پابندی کو اٹھانے کا کوئی ادارہ ظاہر نہیں کیا اور اس ضمن میں صوبائی حکومت نے پتنگ بازوں کی تنظیم کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی اس درخواست کو بھی رد کردیا ہے جس میں فروری میں بسنت کا تہوار منانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل اس تہوار یعنی بسنت کو موسم بہار کی آمد کے موقع پر ہر سال منایا جاتا ہے تاہم بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ہرسال کی طرح اس سال بھی میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں موسم بہار کی آمد سے قبل ہی یہ پتنگ بازوں میں یہ بحث کا موضوع بنا ہوا تھا کہ آیا حکومت اس مرتبہ بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دے دی گی یا نہیں۔

بسنت کے تہوار منانے پر پابندی کو برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے پر بعض شہریوں نے اس کو سراہا جبکہ پتنگ بازی کے شوقین افراد نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پنجاب میں آخری مرتبہ بسنت کا تہوار سنہ دو ہزار نو میں اس وقت منایا گیا تھا جب صوبے میں گورنر راج نافذ تھا۔

گزشتہ برس صوبائی حکومت نے پتنگ بازی کی اجازت دینے کے سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تاہم حکومت نے بسنت کا تہوار منانے پر عائد پابندی کو برقرار رکھا۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر