BBC Urdu

صفحۂ اول > پاکستان

حیدر آباد: وزیرِ تعلیم کے بیان پر ہڑتال

فیس بُک ٹِوِٹر گوگل
24 فروری 2013 16:20 PST

حیدرآباد اور سندھ کے بعض ديگر شہروں میں حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے صوبائی وزیر تعلیم کے بیان کے خلاف ہڑتال جاری ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے وزیر تعلیم کے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے دیے گئے بیان کے خلاف یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی۔

صبح سویرے ہی متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور ٹائر جلائے جس کے باعث اکثر چھوٹے بڑے تجارتی و کاروباری مراکز ، پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹےشن بند ہو گئے ۔

حیدرآباد سے کراچی اور اندرون سندھ چلنے والی پبلک ٹراسپورٹ بھی معمول سے انتہائی کم ہے۔

وزیر تعلیم کے بیان کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے گزشتہ روز سندھ یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سندھ یونیورسٹی کو تباہ کرنے کی سازش کے پیش نظر حیدرآباد میں یونیورسٹی بننے نہیں دیں گے اور حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے خلاف وہ آہنی دیوار ہیں۔

انہوں نے ڈگری لینے کے لیے آئے ہوئے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں سے کہا تھا کہ انہیں علم ہے کہ کس طرح حیدرآباد میں یونیورسٹی قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں گورنر ہاؤس میں سابق فوجی حضرات کس طرح سندھ یونی ورسٹی کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف تھے۔

صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے جس بیان پر حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں جو شدید در عمل سامنے آیا ہے اس کی ابتداء وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی گورنمنٹ کالج، کالی موری میں موجودگی کے دوران پیش آئی۔

وزیر اعظم نے یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے کالج کی امداد کے لیے پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا تو حاضرین نے کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

شور کے باعث وزیر اعظم لوگوں کا مطالبہ سمجھ نہ سکے تو انہوں نے پرنسپل سے معلوم کیا کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ کالج کے پرنسپل نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان فرما دیجیے۔

اسی دوران پیر مظہر الحق وزیراعظم کے قریب آئے تو وزیر اعظم نے پوچھا کہ یونیورسٹی جواب میں پیر مظہر الحق نے وزیر اعظم کے کان میں کہا کہ یونیورسٹی نہیں بننی چاہیے۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر