BBC Urdu

صفحۂ اول > سائنس

چاند پر سنگ باری اندازوں سے کہیں زیادہ

فیس بُک ٹِوِٹر گوگل
6 دسمبر 2012 18:16 PST
گیریل سیٹلائٹ سے لی گئی چاند کی تصویر

ناسا کے دو مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل کردہ معلومات سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ چاند کی ابتدائی تاریخ میں کس قدر سنگ باری ہوئی تھی۔

’ایب‘ اور ’فلو‘ نامی سیٹلائٹس کو مشترکہ طور پر گریل مشن کہا جاتا ہے۔ اس مشن نے چاند کی سطح کے مختلف حصوں میں کششِ ثقل میں فرق کا نقشہ بنایا ہے۔

اس نقشے سے یہ پتا چلتا ہے کہ چاند کی سطح پر شدید سنگ باری ہوتی رہی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی تحقیقاتی نتائج کے برعکس چاند پر ہونے والی سنگ باری کہیں زیادہ شدید تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا تعلق زمین کی قدیم تاریخ کے مطالعے سے بھی ہے۔ ان کے مطابق اربوں سال پہلے دیگر سیاروں کے وجود میں آنے کے عمل کے دوران زمین پر بھی اسی طرز کی سنگ باری ہوئی ہوگی۔ بظاہر ایسا نہیں لگتا کیونکہ زمین کی سطح ’پلیٹ ٹیکٹونکس‘ کے عمل کی وجہ سے مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے، جیسے زمین کے تمام زخم بھر گئے ہوں۔

امریکہ کی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر اور گریل مشن کے اہم محقق پروفیسر ماریا زوبر کا کہنا ہے کہ ’چاند کی سطح پر جس قدر گڑھے بنے ہوئے ہیں، زمین بھی کبھی ایسی ہی ہوتی تھی، اور مریخ کے بعض حصے ابھی بھی ایسے ہی نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ وہ وقت تھا جب حیاتیات کے ارتقا کے عمل میں پہلے جراثیم پیدا ہو رہے تھے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ زمین کے قدیم پتھروں کا جائزہ کرنے سے ہمیں معلوم تھا کہ زمین اپنے ابتدائی مراحل میں کس قدر تباہ کن جگہ تھی اور اب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے پر تونائی کی کتنی شدت تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس مرحلے پر پیدا ہونے والی حیاتیات کو اپنے بقا کے لیے کس قدر مضبوط ہونا ہوگا۔

گریل مشن کی تین سو کلوگرام وزنی دونوں سیٹلائٹس گذشتہ ایک سال سے پچپن کلومیٹر کی بلندی سے چاند کی سطح کے مختلف حصوں میں کششِ ثقل میں فرق ناپ رہی ہیں۔ کششِ ثقل میں یہ فرق چاند کے مختلف حصوں میں کثافت کے فرق کی وجہ سے ہے۔

ایب اور فلو ایک دوسرے کے درمیانی فاصلے کو ناپتے ہیں اور اسی سے کششِ ثقل میں فرق کا جائزہ لیتے ہیں۔

گریل مشن کے ذریعے کی جانی والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاند کی باہری سطح پر تو واضح طور پر بڑی پہاڑیاں اور گڑھے ہیں لیکن چاند کی اندرونی سطح پر بھی چھوٹی چھوٹی بےترتیب پہاڑیاں ہیں۔

گریل مشن کے ذریعے لی گئی چاند کی سطح کی تصاویر کے رنگ اور تفصیلات ماضی میں لی گئی تصاویر سے کئی ہزار گنا بہتر ہیں۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر