BBC Urdu

صفحۂ اول > آس پاس

کارل مارکس اور سرمایہ دارانہ نظام

4 ستمبر 2011 22:29 PST

جان گرے

سیاسی مفکر


کارل مارکس کمیونزم کے بارے میں غلط ہو سکتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں اُس کے زیادہ تر خیالات صحیح تھے۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے موجودہ بحران کے بعد زیادہ سے زیادہ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کارل مارکس صحیح تھا۔

انیسویں صدی کے اِس عظیم فلسفی، معیشت دان اور انقلابی کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام شدید طور پر ایک غیر مستحکم نظام ہے۔

کارل مارکس سمجھتے تھے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اپنے اندر یہ خامی موجود ہے کہ یہ مسلسل بڑے پیمانے پر معاشی اتارچڑھاؤ پیدا کرتا ہے اور آخر کار اپنے آپ ہی کو ختم کر لے گا۔

مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کی خود ہی کو تباہ کرنے کی خصوصیت کا خیرمقدم کیا۔ انہیں اس بات پر اعتماد تھا کہ ایک عوامی انقلاب آ کر رہے گا اور جس کے نتیجے میں کمیونسٹ نظام آ جائے گا جو زیادہ پیداوار کرنے والا اور زیادہ انسان دوست نظام ہے۔

مارکس کے کمیونسٹ نظریات غلط تھے لیکن سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق وہ پیغمبرانہ حد تک صحیح تھا۔ وہ نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام میں مستقل طور پر پائے جانے والے عدم استحکام کو صحیح طور پر سمجھا تھا بلکہ وہ اِس نظام پر اپنے زمانے اور موجودہ دور کے معیشت دانوں کے مقابلے میں زیادہ گہری نظر رکھتا تھا۔

مارکس کو اِس بات کی پوری سمجھ تھی کہ سرمایہ دارانہ نظام کس طرح اپنے ہی سماجی ڈھانچے، متوسط طبقے کا طرز زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔

مارکس جب یہ کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام متوسط طبقے کو ایک ایسی صورتحال کی جانب دھکیل دے گا جہاں وہ سخت دباؤ کے شکار مزدور طبقے کی طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ مارکس نے جو پیش گوئی کی تھی ہم آج کل ایسی ہی صورتحال سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مارکس سرمایہ دارانہ نظام کو تاریخ کا سب سے زیادہ انقلابی معاشی نظام سمجھتا تھا۔ اِس میں کوئی شک نہیں یہ نظام اِس سے پہلے کے معاشی نظاموں سے انقلابی حد تک مخلتف ہے۔

غلامی کا نظام اورجاگیردارانہ معاشرے کئی صدیوں تک قائم رہے۔ اِن کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ نظام جس چیز کو چھوتا ہے اسے بدل دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں صرف برانڈ ہی تیزی سے تبدیل نہیں ہوتے بلکہ کمپنیاں اور صنعتیں بھی تخلیقی اور اچھوتے عمل کے نتیجے میں بنتی اور ختم ہوتی ہیں جب کہ انسانی رشتے بھی تحلیل اور نئی شکل میں دوبارہ بنتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کو تخلیقی تباہی کا ایک عمل کہا جاتا رہا ہے اور اِس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ نظام بے پناہ پیداوار کرتا ہے۔ برطانیہ میں اِس وقت جو لوگ رہ رہے ہیں اُن کی اصل آمدنی اُس آمدنی سے کہیں زیادہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام اِس ملک میں نہ آنے کی صورت میں اُن کی ہوتی۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس سارے عمل میں جو چیزیں تباہ ہوتی ہیں اُن میں وہ طریقۂ زندگی بھی شامل ہے جس پر ماضی میں سرمایہ دارانہ نظام انحصار کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے مستقبل کے بارے میں جس میں مارکیٹ زندگی کے ہر کونے پر پھیل جائے مارکس کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا ہے کہ ’ہر چیز جو ٹھوس ہے وہ ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے‘۔

کمیونسٹ مینی فیسٹو اٹھارہ سو اڑتالیس میں شائع ہوا تھا جب برطانیہ میں وکٹورین دور کے ابتدائی دن تھے۔ اُس دور میں رہنے والے شخص کے لحاظ سے یہ ایک انتہائی دوربیں خیالات تھے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے ایک انقلاب تو ضرور برپا کیا لیکن یہ ویسا انقلاب نہیں تھا جس کی مارکس کو توقع تھی۔ وہ جرمن مفکر بورژوا طرزِ زندگی سے نفرت کرتا تھا اور اُس نے اِسے تباہ کرنے کے لیے کمیونزم کا سہارا لیا۔ اُس نے جو پیش گوئی کی تھی اُس کے عین مطابق بورژوا دنیا تباہ کر دی گئی۔ لیکن یہ کام کمیونزم نے نہیں کیا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام نے خود ہی بورژوازی یعنی اشرافیہ کو ختم کر دیا ہے۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر