کائنات: ’اجتماعی زیادتی‘ کے ملزمان بری

خیر پور میرس مبینہ زیادتی (فائل فوٹو)
Image caption عام طوعر پر مبینہ زیادتیوں کو شہادتیں فراہم کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

کراچی کی ایک عدالت نے دادو سے تعلق رکھنے والی لڑکی کائنات سومرو سے مبینہ زیادتی کے الزام سے چاروں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج جنوبی فہیم احمد صدیقی کی عدالت میں زیر سماعت تھا، جمعرات کو عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ تینوں گواہیوں سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ کائنات کو نشہ آور چیز دی گئی تھی، اس لیے چاروں ملزمان شعبان شیخ، احسان اللہ تھیبو، روشن علی تھیبو اور کلیم اللہ تھیبو کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ دادو کے میھڑ تھانے پر کائنات کے والد غلام نبی سومرو نے جنوری دو ہزار سات میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کی بیٹی کائنات اپنے بھانجی کے لیے چوڑیاں لینے دکان پر گئی تو، دکاندار شعبان شیخ نے نشہ آور چیز کھلا کر اس بے ہوش کر دیا۔

غلام نبی کے مطابق سومرو نے ان کی بیٹی کو حبس بے جا میں رکھا اور اس دوران اس سے اجتماعی زیادتی کی گئی بعد میں کائنات سومرو ان کی مبینہ قید سے فرار ہوکر گھر پہنچی۔

کائنات سومرو کا موقف تھا کہ انہیں حیدرآباد کے قریب کوٹڑی کے علاقے خدا کی بستی میں قید رکھا گیا تھا، جہاں سے وہ موقع ملتے ہی فرار ہوکر اپنے گھر میھڑ پہنچی ہیں۔

ملزم قرار دیے گئے احسان اللہ تھیبو نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ کائنات کے شوہر ہیں انہوں نے اس حوالے سے نکاح نامہ بھی پیش کیا مگر کائنات کے خاندان نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کائنات سومرو کا خاندان انصاف کے حصول کے لیے ایک بڑے عرصے تک کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال پر بیٹھا رہا، میڈیا میں اس کا چرچا ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور یہ مقدمہ دادو سے کراچی منتقل کیا گیا۔

کائنات سومرو ساتویں جماعت کی طالب علم تھیں، اس واقعے کے بعد اس خاندان نے کراچی میں رہائش اختیار کرلی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ میھڑ میں انہیں خطرہ ہے۔

اسی بارے میں