آخری وقت اشاعت:  منگل 10 اگست 2010 ,‭ 07:07 GMT 12:07 PST

دوسری شہروں سے نقل مکانی پر تشویش: دھاریجو

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

کھر کے ضلعی رابطہ افسر انعام اللہ دھاریجو نے بی بی سی لائف لائن کو بتایا ہے کہ اس وقت سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو پیتنیس سے اب تک دستیاب اعدادوشمار کو سامنے رکھیں تو اس کا شمار بڑے سیلابوں میں ہوگا۔

مسٹر دھاریجو نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کا صحیح اندازہ تو اسی وقت ہو سکے گا جب سیلابی ریلا یہاں سے گزر جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سکھر ضلع میں واقع کچے کا پورا علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے اور پینتیس سے چالیس لاکھ افراد اس سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

ضلعی رابطہ افسر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بارہ سے سولہ گھنٹے میں پانی کی سطع نیجے جانا شروع ہو جائے گی۔ ’لیکن ہمیں سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ رائٹ بینک پر توڑی بند کے ٹوٹنے سے متاثر ہونے والے لوگ غوث پور، کندھ کوٹ، کشمور، شکار پور اور لکھی غلام شاہ سے نقل مکانی کر کے سکھر شہر کا رخ کر رہے ہیں اور گزشہ رات چالیس ہزار افراد سکھر میں قائم ریلیف سنٹروں میں پہنچے ہیں۔ ہمیں اس سلسلے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہماری تمام انتظامی مشینری بندوں کی حفاظت اور لوگوں کو باہر نکالنے میں لگی ہوئی ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔