پاکستان میں سیلاب پر خصوصی ہنگامی نشریات

اقوامِ متحدہ بدھ کو پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے عالمی اپیل جاری کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے’اوچا‘ کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر امداد نہ مہیا کی گئی تو ہلاکتوں کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔

لائف لائن پاکستان: پہلا روز

لائف لائن پاکستان: دوسرا روز

پاکستان میں سیلاب سے تباہی اور امدادی سرگرمیوں پر معلومات کے لیے بی بی سی نے پیر نو اگست سے لائف لائن پاکستان کے نام سے مختصر دورانیہ کے ریڈیو پروگراموں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے دس منٹ دورانیہ کے ریڈیو پروگرام دن میں تین مرتبہ اردو اور پشتو میں نشر کیے جارہے ہیں۔

ہمارا لائف لائن پروگرام سولہ میٹر بینڈ پر سترہ ہزار پانچ سو بیس کلو ہٹز، پچیس میٹر بینڈ پر بارہ ہزار ستر کلو ہٹز، انیس میٹر بینڈ پر پندرہ ہزار تین سو پینتس کلو ہٹز، اکتیس میٹر بینڈ پر نو ہزار آٹھ سو دس کلو ہٹز، پچیس میٹر بینڈ پر گیارہ ہزار آٹھ سو پچاس کلو ہٹز اور بائیس میٹر بینڈ پر تیرہ ہزار چھ سو نوے کلو ہٹز پر نشر کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق نشریات کے اوقات: 12:30، 15:30 اور 18:30 (7:30، 10:30، 13:30 جی ایم ٹی)

یہ بلیٹنز آپ ہمارے ایف ایم پارٹنر سٹیشنز پر بھی سن سکتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان عدنان خان نے لائف لائن پاکستان کو بتایا ہے کہ ان کا ادارہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ جتنے بھی علاقے کٹے ہوئے ہیں ان تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کوہستان بھی ایسے ہی علاقوں میں شامل ہے۔

’بڑی پرابلم یہ آ رہی ہے کہ شاہراہِ قراقرم مختلف جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور پلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے کٹی ہوئی ہے۔‘

مسٹر عدنان خان نے بتایا کہ لوگوں کی مشکلات اپنی جگہ صحیح ہیں اور ان کے گلے شکوے بھی درست ہیں لیکن ان سے ہمارے اپیل ہے کہ وہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ’ہم فوجی ہیلی کاپٹروں کے مدد سے ان لوگوں تک خوراک، ادویات اور خیمے پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

احسان اللہ شیخ لیہ کی ایک مخیر کاروباری شخصیت ہیں جو ہر روز سیلاب سے متاثر ہونے والے ایک ہزار افراد کو دو وقت کا کھانا مہیا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ اگست سے یہ کام شروع کیا تھا اور وہ اسے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دو بھائیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ روزانہ چھ سے سات گھنٹے اس کام میں لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کام میں ان کے روزانہ پچیس سے تیس ہزار روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔

مظفرگڑھ کے ضلعی رابطہ افسر فراست اقبال نے کہا ہے کہ چناب میں سیلاب کا جو ریلا آ رہا ہے اس سے مظفر گڑھ شہر کو خطرہ لاحق ہے۔ ’ہمیں جو دو تین دن ملے تھے اس میں محکمہ آبپاشی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور آرمی کی ٹیموں نے ملکر کوشش کی ہے کہ جو کمزور جگہیں ہیں انہیں مضبوط بنایا جائے اور جو شگاف پڑے ہیں انہیں پُر کیا جائے۔ اس میں ہمیں سو فیصد تو نہیں لیکن ستر فیصد کامیابی حاصل ہوئے ہے۔ اس کی بنیاد پر ہمیں یقین ہے کہ شہر میں پانی آنے کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں تو کم ضرور ہو گیا ہے۔‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی سیلاب زدہ علاقوں کی ویڈیو کوریج:

’سکھر: سیلاب متاثرین کی شکایتیں

’موٹر وے کی وجہ سے نقصان ہوا‘

سیلاب: افغان پناہ گزین کیمپ میں تباہی

’حکومت پتہ نہیں کہاں ہے‘

لکی مروت کی جیل میں پانی

پاکستانی میں جنوبی پنجاب کا ایک گاؤں کیسے ڈوبا؟

گھوٹکی اور قادر پور شدید متاثر

نوشہرہ: ایک متاثرہ گھر کا دورہ

نوشہرہ میں امدادی اشیا کی انتہائی قلت

اسی بارے میں