پاکستان میں سیلاب پر خصوصی ہنگامی نشریات

پاکستان کے وزیرِِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینچر کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں، تیرہ سو چوراسی ہلاک اور سات لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد ابھی بھی ساٹھ لاکھ افراد تک نہیں پہنچ پائی ہے کیونکہ ان متاثرین تک رسائی نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ متاثر ہوا ہے۔

لائف لائن پاکستان: پہلا روز

لائف لائن پاکستان: دوسرا روز

لائف لائن پاکستان: تیسرا روز

لائف لائن پاکستان: چوتھا روز

لائف لائن پاکستان: پانچواں روز

پاکستان میں سیلاب سے تباہی اور امدادی سرگرمیوں پر معلومات کے لیے بی بی سی نے لائف لائن پاکستان کے نام سے مختصر دورانیہ کے ریڈیو پروگراموں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے دس منٹ دورانیہ کے ریڈیو پروگرام دن میں تین مرتبہ اردو اور پشتو میں نشر کیے جارہے ہیں۔

ہمارا لائف لائن پروگرام سولہ میٹر بینڈ پر سترہ ہزار پانچ سو بیس کلو ہٹز، پچیس میٹر بینڈ پر بارہ ہزار ستر کلو ہٹز، انیس میٹر بینڈ پر پندرہ ہزار تین سو پینتس کلو ہٹز، اکتیس میٹر بینڈ پر نو ہزار آٹھ سو دس کلو ہٹز، پچیس میٹر بینڈ پر گیارہ ہزار آٹھ سو پچاس کلو ہٹز اور بائیس میٹر بینڈ پر تیرہ ہزار چھ سو نوے کلو ہٹز پر نشر کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق نشریات کے اوقات: 12:30، 15:30 اور 18:30 (7:30، 10:30، 13:30 جی ایم ٹی)

یہ بلیٹنز آپ ہمارے ایف ایم پارٹنر سٹیشنز پر بھی سن سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ صدر مقام گلگت کا دیگر اضلاح سے رابطہ بحال نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے متاثرین تک پہنچنے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

بی بی سی کے پروگرام لائف لائن پاکستان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے گلگت بلتستان میں چھیاسی ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور بہتر ہزار کنال اراضی زیر آب آ گئی ہے۔

سید مہدی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت سے انہیں جو امداد مل رہی ہے اس کا دارومداد موسم پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز بارش کی وجہ سے پی آئی اے کی پرواز 730 گلگت نہیں آ سکی جس کی وجہ سے جو ایندھن اور ادویات پہنچنے تھیں وہ نہیں پہنچ سکیں۔

گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حال ہی میں ایک پیش رفت ہوئی ہے وہ یہ کہ انتظامیہ بابو سر سے گندم اور ڈیزل چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے چلاس تک پہنچنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان کی حکومت ملک کے باقی علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت ان کے گھروں کو بھیجا جا رہا ہے۔

سید مہدی شاہ نے امید ظاہر کی کہ اتوار شام یا پیر صبح تک بجلی بحال ہو جائے گی جس سے لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے سربراہ محمود خان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے فوری چیلنج ان علاقوں تک غذائی اجناس پہنچانا ہے جو باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ نیلم ویلی ہے۔

مسٹر محمود خان کے مطابق نیلم ویلی میں بھی صورتِ حال تشویش ناک نہیں ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ابتر ہو سکتی ہے۔ ’اس سلسلے میں عالمی ادارہِ خوراک نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے اور انہوں نے نیلم ویلی کی غذائی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے سروے کا کام شروع کر دیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ آٹھ سے دس روز کے اندر غذائی اجناس نیلم ویلی پہنچنے شروع ہو جائیں گی۔‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی سیلاب زدہ علاقوں کی ویڈیو کوریج:

’سکھر: سیلاب متاثرین کی شکایتیں

’موٹر وے کی وجہ سے نقصان ہوا‘

سیلاب: افغان پناہ گزین کیمپ میں تباہی

’حکومت پتہ نہیں کہاں ہے‘

لکی مروت کی جیل میں پانی

پاکستانی میں جنوبی پنجاب کا ایک گاؤں کیسے ڈوبا؟

گھوٹکی اور قادر پور شدید متاثر

نوشہرہ: ایک متاثرہ گھر کا دورہ

نوشہرہ میں امدادی اشیا کی انتہائی قلت

اسی بارے میں