پانی ہی پانی، دفن کہاں کریں

جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کو جن ان گنت مسائل کا سامنا ہے وہاں مظفر آباد کے نواحی علاقے میں بےگھر ہونے والے متاثرین کے لیے ایک مسئلہ مرنے والوں کی تدفین کا بھی ہے۔

سیلاب کی وجہ سے جبوبی پنجاب کے مختلف حصے زیر آب ہیں اور کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ مظفر گڑھ بھی جنوبی پنجاب کا وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا ساٹھ فیصد علاقہ سیلابی پانی کی لپیٹ میں ہے۔

مظفر گڑھ کے نواحی علاقے ’بدھ‘ کے مکین بھی سیلابی پانی کی زد میں ہیں اور ان کے علاقے میں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے۔ ان کی دیگر مشکلات کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی دقت ہے کہ موت کی صورت میں وہ مرنے والے کی تدفین کیسے اور کہاں کریں گے۔

بدھ کے علاقے میں سیلاب متاثرین نے بتایا کہ ان کی بستی میں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے اور اس پانی کی وجہ سے ان کے علاقے کا قبرستان بھی ختم ہوگیا ہے اور قبرستان کے ڈوبنے کا خیال انہیں اپنی اس مشکل گھڑی میں اس وقت آیا جب ان کے بستی کی ایک لڑکی کی موت ہوگئی تو سب یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اب کی اس تدفین کیسے کی جائے۔

بے گھر ہونے والے اس خاندان کے لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ لڑکی کی میت کو تدفین کے لیے کسی دوسرے علاقے کے قبرستان لے جاتے کیونکہ قریب کی تمام بستیاں اور دیہات سیلاب کے پانی سے ڈوب چکے تھے۔

گاؤں کے لوگوں نے لڑکی کی تدفین اس اونچے ٹیلے پر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے قریب ہی انہوں نے پناہ لے رکھی تھی، اسی ٹیلے پرخالی جگہ دیکھ کر مٹی کھود کروہاں لڑکی کو دفن کر دیا گیا۔

سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کو جہاں اپنے گھر اور املاک کے تباہ ہونے کا غم ہے وہاں وہ اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ اگر کسی کی موت ہوگئی تو اس کی تدفین کیسے ہوگی۔

اسی بارے میں