سیلاب بائی انوی ٹیشن !

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقہ جات کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ پیش ہے اس سلسلے کی اٹھائیسویں کڑی جو انہوں نے میہڑ شہر سے بھیجی ہے۔

منگل سات ستمبر (میہڑ شہر)

رات گئے میں نے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ دادو ضلع کو سمجھنے کی کوشش کی۔ کیونکہ دادو کی چار تحصیلوں میں سے ایک یعنی خیرپور ناتھن شاہ پانچ روز پہلے پوری طرح ڈوب چکی ہے۔ جوہی تحصیل کسی بھی وقت زیرِ آب آسکتی ہے۔اور میہڑ تحصیل کو سیلاب کا عفریت تقریباً جبڑے میں لے چکا ہے۔تین ستمبر کو میہڑ شہر خالی کرنے کی وارننگ جاری ہوچکی ہے۔ کوئی وقت جاتا ہے کہ دادو شہر کو وارننگ ملنے والی ہے۔

ضلع دادو کی آبادی پندرہ لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔دو ہزار چار سے پہلے یہ رقبے کے اعتبار سے سندھ کا سب سے بڑا ضلع تھا جسے کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ بلوچستان سے علیحدہ کرتا ہے۔ لیکن سابق وزیرِ اعلی ارباب غلام رحیم کے دور میں انتظامی سے زیادہ سیاسی ضروریات کے تحت جو نئے اضلاع تخلیق کئے گئے۔ان میں دادو سے علیحدہ کردہ جام شورو ضلع بھی شامل ہے۔جو سیہون ، کوٹری اور جام شورو تعلقوں کو کاٹ کر ویلڈ کیا گیا۔

سیلاب کی ڈائری: خصوصی ضمیمہ

اس کاٹ چھانٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہی رات میں دادو میٹھے پانی کی منچھر جھیل ، شہباز قلندر کی درگاہ ، سندھ یونیورسٹی ، مہران انجنیرنگ یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی سے محروم ہوگیا۔ ترکے میں بس کیرتھر سلسلے کی تین بڑی چوٹیاں رہ گئیں۔سات ہزار چھپن فٹ اونچی شادن شاہ عرف کوہ بے نظیر ، چھ ہزار آٹھ سو پچاس فٹ اونچی کتے جی قبر اور پانچ ہزار چھ سو اٹھاسی فٹ اونچی گورکھ ۔اور تقریباً آدھا کیرتھر نیشنل پارک۔

اگر انگریز انیس سو تیس کے عشرے میں سکھر بیراج سے دادو کینال ، کیرتھر کینال اور رائس کینال نہ نکالتے تو دادو آج بھی سو فیصد بارانی علاقہ ہوتا۔ لیکن نہری نظام نے یہاں کی غربت کم نہیں کی بلکہ بڑی جاگیروں کو اور مضبوط کیا۔ اندازہ لگائیے کہ آج بھی دادو کی تقریباً نصف آبادی ایک کمرے پر مشتمل مکان میں رہتی ہے۔

انیس سو تیس میں قائم ہونے والے بیراجی نظام سے دادو کوتحفے میں ملنے والی منچھر جھیل کچھ برس پہلے تک پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی۔لیکن برا ہو مین نارا ویلی ڈرین ( ایم این وی) جسے عرفِ عام میں رائیٹ بینک آوٹ فال ڈرین ( آر بی او ڈی ون) کہتے ہیں۔اس کے زریعے کشمور سے دادو تک کا گندہ اور زہریلا پانی منچھر جھیل میں ڈلنا شروع ہوا۔اور پھر یہ آلودہ پانی جھیل سے دریائے سندھ میں منتقل ہونے لگا۔

جس طرح سوویت دور میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل بیکال کو اندھا دھند ترقی کے نام پر ایک زہریلی شور زدہ جھیل میں تبدیل کرکے قتل کردیا گیا۔اسی طرح پاکستان کے منصوبہ سازوں نے جان بوجھ کر یا ناسمجھی میں میٹھے پانی کے سب سے بڑے زخیرے پر صنعتی اور غیر صنعتی زہریلے فضلے کا تیزاب پھینک دیا۔اور منچھر جیسی حسین صورت کو ایک پرند کش، انسان کش اور روزگار کش چڑیل میں بدل دیا۔

اپنے احساسِ جرم کو ہلکا کرنے کے لیے جنرل مشرف کے دور میں رائٹ بینک آوٹ فال ڈرین ٹو کا منصوبہ بنایا گیا ۔جس کا مقصد یہ تھا کہ منچھر میں صنعتی و حیاتیاتی فضلہ ڈالنے کے بجائے اسے اوپر ہی اوپر ڈرین ٹو کے ذریعے سمندر تک پہنچا دیا جائے۔یہ منصوبہ سن دو ہزار چھ میں مکمل ہونا تھا۔ اس بات کوبھی اب چار برس گذر چکے ہیں۔ لیفٹ بینک اور رائٹ بینک آؤٹ فال پر جو اربوں روپے خرچ ہوئے کاش ان سے گندے پانی کو ٹریٹ کرنے کے پلانٹ ہی لے لئے جاتے۔ نہ صرف منچھر کی آبرو بچ جاتی بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا دریا اور علاقائی سمندر بھی یوں زلیل و رسوا نہ ہوتا۔

ان منصوبوں نے صرف میٹھے پانی کے ذخیرے اور دریا کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہر سیلابی سیزن میں پانی کے قدرتی راستوں کو بھی روکا۔یوں ترقی کے نام پر پھانسی کا ایک نہیں بلکہ دو پھندے گلے میں ڈال لئے گئے اور وہ بھی بیرونی قرضے کی مدد سے۔

اس تناظر میں جب سات اور آٹھ اگست کو دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر توڑی بند ٹوٹتا ہے تو پہلے یہ پانی کشمور اور جیکب آباد کے راستے بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں داخل ہوتا ہے اور پھر دوبارہ سندھ کا رخ کرتا ہوا گڑھی خیرو ، قنبر شہداد کوٹ اور وارہ کے نواحی علاقوں کو ڈبوتا ہوا دادو میں گھس جاتا ہے۔جہاں اس کی راہ میں فلڈ پروٹیکشن بند المعروف ایف پی بند، مین نارا ویلی ڈرین ( ایم این وی) کے پشتے اور پھر سپرو بند کھڑا ہے۔جبکہ لاڑکانہ کے پچھواڑے میں واقع حمل جھیل کے علاوہ دادو اور کیرتھر کینال اور ان سے نکلنے والی معاون جوہی کینال ۔ دھمراؤ کینال اور دیگر طفیلی نہروں کا جال بھی سیلاب کی راہ میں بچھا ہوا ہے۔

سندھ کی حکومت، لاڑکانہ اور دادو کے مقامی ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی اور محکمہ آبپاشی کے بزرجمہروں کو توڑی بند ٹوٹنے کے بعد بھی کم از کم پندرہ روز کی مہلت نصیب ہوگئی تھی۔ جس کے دوران میں وہ باہم مل بیٹھ کر بہترین حکمتِ عملی تیار کرسکتے تھے کہ پانی آنے کی صورت میں کہاں کہاں شگاف ڈال کر ایسے گذارا جائے کہ وہ کم ازکم نقصان پہنچاتا ہوا یا تو براستہ منچھر دریا کا رخ کرلے یا پھر منچھر سے پہلے اسے دریا میں جانے کے لئے تیار کیا جائے۔ان پندرہ قیمتی دنوں میں ضرورت کی بھاری مشینری کہیں بھی پہنچائی جاسکتی تھی۔عام آدمی کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جاسکتا تھا کہ کہاں کہاں کتنا نقصان یا فائدہ ہوگا۔اور اس نقصان یا فائدے کو اپنے گوٹھ ، قصبے، شہر یا انتخابی حلقے کی نگاہِ تنگ سے دیکھنے کے بجائے کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے۔

لیکن ہوا کیا؟

محکمہ آبپاشی کے ماہرین نے یہ اندازہ چھوڑا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔توڑی بند ٹوٹنے کے بعد سیلاب نے دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر جو لانگ مارچ شروع کیا ہے وہ اتنا طویل ہے کہ پانی پہلے حمل جھیل میں آئے گا ، پھر مین نارا ویلی ڈرین میں جائے گا اور پھر سپرو بند تک آتے آتے اسکی مقدار صرف پچاس ہزار کیوسک تک رھ جائے گی جس سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں ۔

لیکن جب پانی بلوچستان کے سرحدی اضلاع کو تاراج کرتا ہوا دوبارہ سندھ میں داخل ہوا تو پندرہ کیلومیٹر چوڑائی میں آنے والے اس پانی کو دیکھ کر سب تخمینے بازوں کے طوطے اڑ گئے۔اس پانی کو مزید ڈراؤنا کیرتھر کے پہاڑوں سے آنے والے پہاڑی نالوں یا گاجوں نے بنادیا۔ تنی ، کھجی ، واہندڑی نامی پہاڑی نالوں میں بارش کی طغیانی نے قنبر شہداد کو ٹ پر پڑنے والے سیلابی دباؤ کو اور بوری، نالاری نے دادو تعلقے کی تشویش دو چند کردی۔

وقت کے ساتھ دوڑ شروع ہوگئی ۔آبی ٹائم بم کا کلاک ٹک ٹک ، ٹک ٹک ، ٹک ٹک ۔۔۔۔یا پانی کو راستہ دو اور جلدی دو ورنہ خود ڈوبو اور دوسروں کو بھی ڈبوؤ۔

وہ جو ایک آیت ہے کہ ہم جس پر عذاب اتارتے ہیں پہلے اس کے اوسان چھین لیتے ہیں۔اگست کے آخری ہفتے کے بعد کا ضلع دادو مجھے اس آیت کی تفسیر لگا۔

یہاں سے وہاں تک صرف پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی اور وزرا ہیں۔مقامی بیورو کریسی بھی ان کے تابع ہے۔مگر سیلاب کے خوف نے قوتِ فیصلہ مفلوج کردی ۔وہ ایک بڑی تصویر دیکھنے سے معذور ہیں۔ اور انکی معذوری کے نتیجے میں کراچی میں بیٹھے حکومتی فیصلہ ساز بھی مفلوج ہیں۔

ایک اجلاس کے بعد دوسرا اجلاس ، پانی بڑھ رہا ہے۔ایک اتفاقِ رائے کے بعد دوسرا اتفاقِ رائے ۔۔پانی اور اونچا ہوگیا ہے۔۔۔ایک فیصلے کے بعد دوسرا فیصلہ ۔۔۔پانی سینے تک آگیا ہے۔۔۔ایک الزام کے بعد دوسرا الزام۔۔۔پانی گردن تک پہنچ چکا ہے۔۔۔۔شگاف یہاں سے ڈالو۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ وہاں پر ڈالو۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔ہم ہرگز نہیں ڈالنے دیں گے۔۔۔میرا گوٹھ۔۔۔۔ میرا قصبہ۔۔۔میرا حلقہ۔۔۔میرا تعلقہ۔۔۔میری زمین۔۔۔میری املاک۔۔۔۔ میرا ضلع۔۔۔۔سیلاب اب نازی لشکر میں تبدیل ہوچکا ہے۔۔۔۔پولینڈ ۔۔۔چیکو سلوواکیہ۔۔۔ہالینڈ ۔۔۔ بلجئیم ۔۔۔۔فرانس۔۔۔گڑھی خیرو۔۔ابھی کٹ لگاتے ہیں۔۔قبو سعید خان گیا۔۔۔اب کٹ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔گاجی کھاوڑ گرا۔۔صبر کرو جب تک پانی سات فٹ پار نہیں کرتا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ خیرپور ناتھن شاہ گڑپ گڑپ۔۔سائیں کیوں گھبرا رہے ہوآپ کا شہر تو اونچائی پر ہے۔۔۔میہڑ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ۔۔۔۔جوہی کنال میں بھلا شگاف ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔جوہی ہتھیار رکھ رہا ہے، اٹھا رہا ہے ، پھر رکھ رہا ہے۔دادو شہر کو کوئی خطرہ نہیں پندرہ میں سے صرف گیارہ یونین کونسلیں ہی تو ڈوب رہی ہیں۔۔۔۔۔۔

محکمہ آبپاشی کہیں سیلاب میں بہہ گیا ۔اسکی جگہ چیف اریگیشن انجینیر منسٹر پیر مظہر الحق ، سیکنڈ اریگیشن انجینیر منسٹر آف سٹیٹ رفیق جمالی۔۔اسسٹنٹ انجینییر ایم پی اے عمران لغاری اور فیاض بٹ ۔۔۔۔صوبائی وزیرِ آبپاشی جام سیف اللہ دھاریجو نے آج کی تاریخ تک دادو میں قدم ہی نہیں رکھا۔۔۔بے چارا قائم علی شاہ اب اور کیا کہے کہ آپس میں فیصلہ کرلو کہ کٹ کہاں لگے گا۔۔ فیصلہ ہوجائے تو فون کردینا۔۔۔ایک دن۔۔دو دن ۔۔۔تین دن۔۔۔چار دن۔۔سیلاب نے تمام اختیارات ہاتھ میں لے کر دادو میں گورنر راج لگا دیا ہے۔

میں ڈھائی بجے کے لگ بھگ میہڑ شہر میں داخل ہوا ۔سب کاروبار ٹھپ۔۔۔اسی فیصد نکل چکے ہیں اور بچھے کچھے چھکڑوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں سوار سیتا روڈ کی جانب سے دادو ، سیہون ، حیدرآباد نکلنے کی کوشش کررہے ہیں یا پھر قنبر شہداد کوٹ لاڑکانہ جانے والی چوڑی سڑک پر روانہ ہیں۔

سیلاب نے اپنا پہلا کمانڈو دستہ شہر سے ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر اتار دیا ہے۔رکنِ قومی اسمبلی طلعت مہیسر کے گھر کے ایک کمرے میں میہڑ اور ڈوب جانے والے خیرپور ناتھن شاہ کی مقامی پارٹی قیادت جمع ہے۔اے این پی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرِ محنت امیر نواب جنہیں ایک ماہ پہلے دادو کی دو تحصیلوں میہڑ اور خیرپور ناتھن شاہ کا چارج دیا گیا تھا۔خیرپور ناتھن شاہ ڈوبنے کے بعد پسپا ہو کر اب میہڑ آچکے ہیں۔ کبھی حیران ہو کر ایک کو دیکھتے ہیں تو کبھی دوسرے کو۔ایک ایم پی اے نے اپنا سر پکڑا ہوا ہے۔ایک ایم پی اے کے چہرے کو دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے اب رویا تب رویا۔۔۔۔کچھ پارٹی ورکرز جوش میں چیخ رہے ہیں۔۔۔بس بہت ہوچکا۔۔۔اب ہمیں استعفی دینا ہوگا۔اب برداشت نہیں ہوتا۔۔۔وہ ہمیں ڈبو کر صرف دادو شہر کو بچانا چاہتے ہیں۔۔۔جلد بازی نہ کرو۔۔نادر مگسی کا انتظار کرلو۔۔ہوسکتا ہے وہ کچھ راستہ نکال لیں۔۔۔میہڑ کو شگاف ڈلوا کر بچالیں۔۔۔نادر مگسی کیا کرلے گا۔۔۔جنہوں نے فیصلہ کرنا ہے وہ کسی کی نہیں سنتے۔۔۔اچانک کمرے میں صوبائی وزیرِ خوراک نادر مگسی داخل ہوتے ہیں۔نادر نے جس طرح شہداد کوٹ کو بچایا اور نادر جنہیں سیلاب کا روائیتی راستہ اوروں سے زیادہ ازبر ہے ۔انکے منہ سے پہلا جملہ ہی یہ نکلتا ہے۔

’دیکھیں اگر آپ صرف اپنے آپ میں پھنسے رہے اور سیلاب کی بڑی پکچر سے بھاگتے رہے تو نہ خود کو بچا سکیں گے نہ دوسروں کو۔اب بھی وقت ہے کہ اپنے آپ میں سے نکل کر دیکھیں۔۔میں چیف منسٹر سے خود بات کروں گا۔۔۔۔وہ ابھی اسلام آباد میں مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں ہیں فون بند جا رہا ہے۔۔آئیے پہلے خان پور کی طرف چلتے ہیں۔ایم این وی بند کو دیکھتے ہیں۔پانی کا رخ اور رفتار دیکھتے ہیں۔پھر میں پیر مظہر الحق سے بھی ملوں گا اور اوپر والوں کو بھی حالات بتاؤں گا۔۔۔

اور پھر ہم سب لینڈ کروزرز کے قافلے میں خان پور کی جانب دوڑنے لگے۔لگ بھگ تیس منٹ کے زناٹے دار سفر کے بعد خان پور اور پھر کاری موری بوٹنگ پوائنٹ پر ایم این وی کا برج ۔۔۔۔بند کے دونوں طرف تاحدِ نگاہ پانی ہی پانی ہے۔اتنا زیادہ پانی کہ پل میں نکاسی کے لئے بنے ہوئے دروازے تک نظر نہیں آرہے۔ کچھ دیر میں نادر مگسی علاقائی نمائندوں سمیت سپیڈ بوٹ میں پانی کا سروے کرنے روانہ ہوگئے اور میں اور پہلے سے موجود دیگر صحافی بند کے کنارے ایستادہ اس تنبو میں جاکر بیٹھ گئے جہاں زرا دیر بعد جی او سی حیدرآباد کو بریفنگ دی جانے والی ہے۔

’ سر خیرپور ناتھن شاہ کہیں آٹھ فٹ تو کہیں پانچ فٹ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔اب صرف دو فیصد آبادی شہر میں رھ رہی ہے۔ہماری بوٹس نے سر وہاں سے بارہ ہزار لوگوں کو نکالا ہے۔جن میں سے صرف دو ہزار کے لگ بھگ ریلیف کیمپوں میں گئے ہیں۔باقی اپنے عزیزوں رشتے داروں کے ہاں یا دوسرے شہروں میں شفٹ ہو رہے ہیں۔۔جو لوگ سیتا پور کے راستے دادو شہر کی طرف جا رہے ہیں انکے لئے سیہون میں کیمپ بنایا گیا ہے ۔تاکہ وہ یہاں رکنے کے بجائے اس ٹرانزٹ کیمپ میں پہنچیں ۔جہاں سے انہیں حیدرآباد اور کراچی منتقل کیا جاسکے۔

سر سپریو بند پر ہزاروں لوگ بیٹھے ہیں۔ہم ان تک خوراک اور پانی پہنچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔لیکن سر زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ اس بند سے کیمپوں میں منتقل ہونے پر آمادہ ہوجائیں۔کیونکہ شگاف پڑنے کی صورت میں ان لوگوں کے لئے شدید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ہم انکے نمائندوں اور علاقے کے بااثر لوگوں کے ذریعے انہیں کنوینس کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں سر۔۔۔اسوقت علاقے میں پانچ ہیلی اور انتیس بوٹس آپریٹ کررہی ہیں سر۔۔۔

ساڑھے پانچ بج رہے ہیں۔ سورج دن بھر کام کرنے کے بعد آسمان کے چینجنگ روم میں اپنی ڈانگری ٹانگنے جا رہا ہے۔ نادر مگسی، امیر نواب اور علاقے کے ارکانِ اسمبلی تفصیلی سروے کے بعد واپس آچکے ہیں۔ایک دفعہ پھر لینڈ کروزرز کا قافلہ زناٹے سے چل پڑا ہے۔جی او سی کا ہیلی کاپٹر واپسی کے لئے فضا میں بلند ہورہا ہے۔دس منٹ کے سفر کے بعد وہ موڑ آگیا جہاں سے نادر مگسی کو اکتیس کلومیٹر دور دادو شہر جانا ہے اور تازہ آبی سروے کی روشنی میں شگاف ڈالنے کی بابت اپنی رائے پیر مظہر الحق کے سامنے رکھنی ہے اور اگر کوئی متفقہ فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر اسلام آباد میں موجود قائم علی شاہ کو بھی آگاہ کرنا ہے۔

جبکہ ہماری دو گاڑیاں میہڑ واپس جارہی ہیں۔راستے میں کھدائی کی صرف تین مشینیں ایک حفاظتی بند تخلیق کرنے میں مصروف ہیں ۔ہماری گاڑیاں بار بار دوسری جانب سے آنے والی سامان لدی ٹرالیوں اور چکھڑوں کے سبب رک رہی ہیں۔

بند باندھنے والی مشینوں کی سخت کمی ہے اور وقت کی بھی سخت کمی ہے۔وزیرِ محنت امیرنواب نے کوشش کرکے سہراب گوٹھ پر کھڑی سینکڑوں بھاری مشینوں میں سے سات تو کرائے پر لے کر یہاں پہنچوادی ہیں۔مگر انہیں چلانے کے لئے آپریٹر نہیں ہیں۔ اور اگر آپریٹر بھی میسر آجائیں تو ان ساتوں ٹنوں وزنی مشینوں کو حفاظتی پشتوں تک کیسے لے جائیں۔ راستے پر تو پانی نے قبضہ کرلیا ہے ۔

لوگوں کے انخلا کے لئے کراچی سے کرائے کی پچاس کوچز اور کوسٹرز بھی منگوائی گئی ہیں۔ مگر لوگ سرکاری سواری کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی نکل کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔خیرپور ناتھن شاہ جاچکا ہے۔۔۔میہڑ دست بدست جنگ لڑنے کے بجائے سر جھکائے کھڑا ہے۔جبکہ جوہی میں وقت کا پنڈولم کبھی خشکی کے حق میں جھک رہا ہے تو کبھی پانی کی حمایت میں۔۔۔۔کچھ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے۔مگر ایک بات طے ہے۔۔سیلاب یہاں آیا نہیں ہے۔۔۔ہانکا کرکےلایا گیا ہے۔۔۔

میں لاڑکانہ کی طرف براستہ نصیر آباد اور وگن روانہ ہوچکا ہوں۔۔اس سڑک کے بارے میں بھی یہی سنا گیا ہے کہ خراب ہے۔بناوٹ کے اعتبار سے بھی اور ڈاکوؤں کے اعتبار سے بھی۔۔لیکن جانا تو ہے ۔جانا تو ہوگا ۔۔

اسی بارے میں