آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 ستمبر 2010 ,‭ 19:51 GMT 00:51 PST

’ہمیں آزادی چاہیے‘ زخمی کشمیری

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر ہے جیسے کبھی جنت ارضی کہا جاتا تھا مگر اب اس کی ہواؤں پر تشدد کے پہرے ہیں، گلیوں میں مظاہروں کی گونج ہے، اورفضائیں جوانوں کی ہلاکتوں اور آنسوؤں سے آلودہ ۔ تین ماہ میں ایک سو آٹھ سے زیادہ کشمیری ہلاک ہوچکے ہیں۔ اور تشدد کے اس دائرے کا کو ئی آخری سرا نظر نہیں آرہا۔

کمشیر میں ریاستی تشدد بھارتی حکومت کے خلاف غصے اور مزاحمت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

وادی سے ہمارے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ کمشیر میں تحریک اور تشدد کی لہر کشمیر ،بھارت سے لیکر پاکستان اور افغانستان تک شدت پسندی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

بھارت کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ موجودہ تحریک سے کیسے نمٹا جائے۔

کمشیری نوجوان بھارتی ایوانوں تک اپنی آواز پہنچانے کے باہر نکلے ہیں، مگر بقول انے کے ریاستی پولیس کو دیکھتے ہی جیسے وہ قابض سمجھے ہیں اُن کے ہاتھوں میں پتھر آجاتے ہیں۔ بھارتی فوجی پتھروں کا جواب گولیوں سے دیتی ہے ، مگر گولیوں کی آوازوں سے نہ مظاہرے کم ہوئے اور نہ کشمیریوں کی آوازیں۔

’کیا ستم ظریفی ہے، کمشیریوں کو آُن کی اپنی ہی سرزمین میں یر غمالی بنا دیا گیا ہے ۔ ہم اپنی چار دیواری سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہم پر سے پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں۔ ہمیں اپنے جائز حق کے لیے بلا کسی خوف پر امن احتجاج کا حق دیا جائے۔اور بھارت اور پاکستان ملکر کشمیریوں کے ساتھ سنجیدہ اور ٹھوس مذاکرات شروع کرے۔‘

علیحدگی پسند کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک نظر بند رہنما عمر فاروق

ان ہی گولیوں کی آوازوں میں امن کی راہ تلاش کرنے دلی سے ایک وفد گزشتہ ہفتے سری نگر پہنچا تھا۔

شہر میں کرفیو، گلیوں اور سٹرکوں پر ہو کا عالم، اور خوف کی فضا، وفد بھاری سکیورٹی میں کچھ کشمیریوں سے ملا، کچھ سے نہیں کہ انھوں نے ملنے سے انکار کردیا۔ وفد زخمیوں سے ملنے ایک ہسپتا ل بھی گیا۔ زخمیوں نے وفد سے کہا کہ ’انھیں اور کچھ نہیں بس آزادی چاہیے‘ بس یہ ہی کشمیر کے مسلے کا حل ہے۔

دلی سے آنے والے وفد میں شامل ایک رکن کا کہنا تھا۔

بھارتی حکومت کے لیے یہ یقیناً باعث سرمندگی ہے کہ کمشیر تشدد کی فضاوں میں امن تلاش کیا جارہا ہے۔

حل تو موجود ہے۔ مگر ا ُس کے لیے پر خلو ص عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔

علیحدگی پسند کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک نظر بند رہنما عمر فاروق کا کہنا تھا کہ

’کیا ستم ظریفی ہے، کمشیریوں کو اُن کی اپنی ہی سرزمین میں یرغمالی بنا دیا گیا ہے ۔ ہم اپنی چار دیواری سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہم پر سے پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں۔ ہمیں اپنے جائز حق کے لیے بلا کسی خوف پرامن احتجاج کا حق دیا جائے۔اور بھارت اور پاکستان ملکر کشمیریوں کے ساتھ سنجیدہ اور ٹھوس مذاکرات شروع کرے۔‘

مگر مسلۂ یہ کہ بھارت کہتا ہے کہ وہ وہ کشمیر کا حل تو چاہتا ہے، مگر آزادی اُس کے ایجنڈے میں نہیں۔

زمینی حقیت یہ ہے کہ سری نگر اس وقت اندھیروں کے محاصرے میں ہے اور شہرکی روشنیوں کو گہن لگ چکا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔