بدترین جنس نگاری کے لیے نامزد

Image caption مایا السٹیئر کیمبل کا دوسرا ناول ہے اور یہ ایک اے لسٹ فلمی اداکارہ کی اپنے ایک دیرینہ دوست تعلقات کی کہانی ہے

لیبر پارٹی کے سابق ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن السٹیئر کیمبل کو ادب میں بدترین جنس نگاری کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

لیبر پارٹی کے میڈیا مینیجر کی نامزدگی ان کے نئے ناول ’مایا‘ میں ایک جنسی منظر کی تصویر کشی کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔

جوناتھن فرینزن کا ناول ’فریڈم‘ اور کرسٹوس ٹسیولکاس کا ناول ’دی سلیپ‘ اس ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے والے دیگر تصانیف میں شامل ہیں۔

ایوارڈ کے منتظمین کے مطابق ناول نگار مارٹن ایمس اور آیئن مکیون معمولی فرق سے نامزدگی سے محروم رہے۔

ایوارڈ جیتنے والے مصنف کے نام کا اعلان انتیس نومبر کو لندن میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا جائے گا۔

گزشتہ سال یہ ایوارڈ جوناتھن لٹل کو ان کے ناول ’دی کائنڈلی ونز‘ پر دیا گیا تھا۔

دی لٹریری ریویو کی طرف سے دیئے جانے والے اس ایوارڈ کو صرف ادبی ناولوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے اور اس شرط کی وجہ سے ٹونی بلیئر کی یاداشتوں پر مبنی تصنیف ’اے جرنی‘ کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا جا سکا۔

منتظمین کے مطابق اس ایوارڈ کا مقصد جدید ناول میں غیر شائستہ، پھیکا اور اکثر اوقات سطحی جنس نگاری کی نشاندہی کرنا ہے۔

مایا السٹیئر کیمبل کا دوسرا ناول ہے اور یہ ایک اے لسٹ فلمی اداکارہ کی اپنے ایک دیرینہ دوست سے تعلقات کی کہانی ہے۔

ایوارڈ کے لیے دیگر نامزدگیوں میں اینابیل لیون کا ناول ’دی گولڈن مِین‘، نیل مکرجی کا ’اے لائف اپارٹ‘، کریگ رین کا ’ہارٹ بریک‘ اور روون سومرویل کا ’دی شیپ آف ہر‘ شامل ہیں۔

اسی بارے میں