آخری وقت اشاعت:  بدھ 1 دسمبر 2010 ,‭ 17:17 GMT 22:17 PST

’ہمارے ہاں کوئی طالبان نہیں‘

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان میں تحریک طالبان کی کاروائیوں سے جس قدر خطرہ ملک کے ریاستی ڈھانچے کو ہے اتنا ہی ان معتدل مذہبی قوتوں کو بھی ہے جو اپنا مذہبی ایجنڈا آمریت سے اتحاد کی بجائے جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت علماء اسلام کا شمار پاکستان میں جمہوریت پسند مذہبی قوتوں میں سرفہرست تھا۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سن دو ہزار دو میں متحدہ مجلس عمل کے قیام اور انتخابات میں ملک کے شمالی صوبے میں اس کی واضح اکثریت میں پاکستان کی فوجی قیادت کا بڑا ہاتھ تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن بی بی سی کے بش ہاؤس سٹوڈیو میں

اُس وقت پاکستان میں قومی سلامتی کے کرتا دھرتا اس دلیل کے قائل نظر آتے تھے کہ طالبان کا راستہ روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ معتدل مذہبی قوتوں کی قومی جمہوری دھارے میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یوں یہ قوتیں خود طالبان کی ’آمرانہ اور جابر سوچ‘ کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

لیکن اس تجزیے کے خالق کرداروں نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب معتدل مذہبی قوتیں بھی طالبان کے سامنے اٹھ کھڑی ہونے کو تیار ہونگی۔ مشرف دور میں وفاق اور صوبوں میں کام کرنے والی منتخب مذہبی جماعتوں نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ثابت کر دیا کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے یا حکومت سے باہر کسی بھی طور پر کھلم کھلا طالبان سے ٹکر لینے پر ہرگز تیار نہیں۔

طالبان کی جانب پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی اس پالیسی کی ایک واضح مثال جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ اس انٹرویو میں طالبان سے مقابلہ تو دور کی بات، مولانا ان کے وجود سے ہی انکاری ہیں۔۔۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔