جولین اسانژ کون

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ ایک ایسی متضاد شخصیت ہیں جن کے لیے چاہتیں بھی بہت ہیں اور نفرتوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ چاہنے والے کہتے ہیں اسانژ سچ کی تلاش میں مشن لیے چل رہے ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حساس معلومات کو سر عام لا کر بہت سوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے اُن کے خاکوں کے مطابق جو لوگ انھیں قریب سے جانتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی ذہین، محنتی، اور کمپوٹر ہیکنگ کی خصوصی صلاحیت کے حامل ہیں۔ اُن کے ساتھ سفر کرنے والے ’نیویارکر‘ کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ کام کرتے ہوئے انھیں کھانے پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا۔

اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے وہ زندگی بھر کسی ایک ملک میں ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے۔ ملکوں ملکوں گھومتے رہتے ہیں، اپنے دوستوں اور حامیوں کے پاس ٹھہرتے ہیں، کئی مرتبہ وہ ایر پورٹ پر ہی اپنا بوریا بستر لگا لیتے ہیں۔

انکے ساتھ دنیا بھر میں درجنوں رضا کار ہیں جو وکی لیکس کے انتہائی پیچیدہ ڈھانچے کو سنبھالتے ہیں۔

جولین اسانژ نے اپنی نوجوانی میں ایک ماہر تعلیم سولیٹ ڈریفس کے ساتھ تین برس تک کام کیا تھا۔ سو لیٹ اُس وقت ابھرتے ہوئےانٹر نیٹ کی انقلابی جہتوں ہر تحقیق کررہی تھی۔اسانژ نے اُن کے ساتھ ملکر ’انڈر گراؤنڈ ‘ یعنی ‘روپوش ’ نامی ایک کتاب لکھی جو کمپوٹراستعمال کرنے والوں کی برادری میں ‘بیسٹ سیلر’ یعنی انتہائی مقبول قرار پائی۔

سولیٹ ڈریفس اسانژ کی شخصیت کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’وہ ایک ماہر ریسرچرتھا جو اخلاقیات، انصاف کے تقاضوں اور اس میں گہری دلچسپی رکھتا تھا کہ ان حدود کے اندر رہتے ہوئے حکومتوں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘

چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ ملکراسا نژ 2006 میں وکی لیکس ویب سائٹ کی بنیاد سویڈن میں ڈالی۔ بی بی سی سے اپنی ایک گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ’ ہم اپنے کام میں بہت مہارت کرچکے ہیں، ہم معلومات کہاں سے اور کیسے حاصل کرتے ہیں کسی کو پتہ نہیں چلنے دیتے، ہم نے آج تک اپنے کسی ذریعے کو ظاہر نہیں کیا۔ ہم بیس ’ مختلف ویب سائیٹس ‘ سے مواد شائع کرتے ہیں، ہمیں بند کرنے کے لیے ملکوں کو اپنی ویب سائٹس بند کرنی ہونگی۔‘

اسانژ کوکچھ ایسے رضاکار عطیات دیتے ہیں جو اس حق میں ہیں کہ ایسی معلومات کو عوام تک پہنچایا جائے، جو اُن کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے مگر طاقت کی بڑی بڑی ایوان گردشیں نہیں چاہتی کہ اُن کی سرگرمیاں منظر عام پر آئیں۔

اسانژ دسیوں ہزار ایسے خفیہ پیغامات اور گفتگو افشاء کرچکے ہیں جن کے شائع ہونے سے بہت سے سربراہان حکومت اور مالی اداروں کے سربراہ خفت اٹھا چکے ہیں، مگر 2007 میں عراق میں امریکی ہیلی کاپٹر کے بارے میں جاری کی جانے والی وڈیو وکی لیکس کی پہلی مرتبہ عالمی شہرت کا سبب بنی، یہ وڈیو دنیا بھر میں شہ سرخیوں کا موضوع بنی رہی۔ اس میں عراق میں امریکی فوجی بارہ عام شہریوں کو ہلاک کرتے ہوئے نظر آئے ، جن میں تین صحافی بھی شامل تھے۔ یہ وڈیو امریکی فوج کے لیے انتہائی رسوائی کا سبب بنی تھی۔

اسانژ 1971 میں آسٹریلیا کے شہر کوینز لینڈ میں پیدا ہوئےجہاں ان کے والدین اپنی تھیٹر کمپنی کے ساتھ شہروں شہروں گھومتے رہتے تھے۔

لیکن اسانژ کو تھیٹر کا نہیں بلکہ نوجوانی سے ہی کمپوٹرکا جنون تھا۔ اُن پر 1995 میں درجنوں ویب سائیٹس کو ہیک کرنے کا جرم ثابت ہو چکا ہے، جس کے بعد انھیں عدالت سے تنبہی کی گئی اور جرمانہ بھرنا پڑا۔

اسا نژ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں کیونکہ جو راز وہ منظر عام پر لاتے ہیں اس کے بعدانھیں حکومتوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، اور جس قسم کے الزامات لگائے جاتے ہیں، کوئی کمزور اعصاب کا شخص اسے برداشت نہیں کرسکتا۔

جولین اسانثر کو سویڈن میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام کا سامنا ہے تاہم اسانژ اس الزام کو اپنے خلاف حکو متوں کی مہم قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں