آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 فروری 2011 ,‭ 16:29 GMT 21:29 PST

شاہ فاروق سے حسنی مبارک تک

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

مصر کے نائب صدر عمر سلیمان نے جمعہ کے روز سرکاری ٹی وی پر اعلان کرتے ہوئے صدر مبارک کے مستعفی ہونے کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق صدر حسنی مبارک قاہرہ سے شرم الشیخ چلے گئے ہیں تاہم اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

مصر کی قدیم تاریخ جہاں اسرار و رموز سے پر ہے تو وہاں اِس سرزمین کی جدید سیاسی تاریخ بھی اقتدار میں آنے والی کئی شخصیات کے عروج و زوال اور عالمی طاقتوں کی اِس خطے میں مسلسل دلچسپی کی وجہ سے ڈرامائی اتار چڑہاؤ سے خالی نہیں۔

جہاں فرانسیسی مہم جو رہنماء نپولین بونا پارٹ کے حملے کے بعد مصر مشرق وسطی کا مغربی دنیا سے رابطہ قائم کرنے والا اپنے دور کا پہلا ملک بنا تو وہاں قائرہ کی جامع الاظہر سنی مسلمانوں کے لئے ایک اہم رہنماء کی صورت میں بھی ابھری۔

مصر میں شہنشاہیت کا اختتام انیس سو باون میں ہوا جب اپنے آپ کو ‘فری آفیسرز’ کہنے والے فوج کے چند افسروں نے شاہ فاروق کا تختہ الٹ دیا۔ ایک مختصر سیاسی مد و جزر کے بعد اٹھارہ جون انیس سو تریپن کو فوجی افسروں کے اِس گروپ نے جمال عبدلناصر کو اپنا رہنماء بناتے ہوئے مصر کی بحیثیت ایک ریپبلک بنیاد ڈالی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔