2003 سے 2011: امریکی فوجی عراق میں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 دسمبر 2011 ,‭ 15:58 GMT 20:58 PST
  • انیس، بیس مارچ سنہ 2003 حملے کا آغاز

    انیس مارچ سنہ دو ہزار تین کو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اعلان کیا کہ امریکہ عراق کو غیر مسلح کرنے کے لیے منتخب اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا دعویٰ تھا کہ اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں اور وہ انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس کے بعد ’عراق کی آزادی‘ کے نام سے آپریشن شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں عراق کے دارالحکومت بغداد سے باہر ایک فارم پر بم برسائے گئے جس کے بارے میں خفیہ اداروں کا کہنا تھا کہ صدام حسین وہاں چھپ سکتے ہیں تاہم یہ اطلاع غلط ثابت ہوئی۔

  • تین سے بارہ اپریل 2003 بغداد پر قبضہ

    امریکی ٹینکوں کو عراقی دارالحکومت بغداد کی سٹرکوں پر گشت کرنے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت لگا۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ترجمان ایری فلیشر نے کہا ’امریکی صدر فوجی آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے بہت مطمئن ہیں تاہم اس کے باوجود وہ بہت محتاط بھی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ابھی مسقبل میں بڑے خطرہ موجود ہے۔‘

  • یکم مئی 2003، مہم کامیاب

    عراق پر حملے کے صرف دو ماہ بعد امریکی صدر بش نے کیلیفورنیا کے ساحل پر طیارہ بردار بحری جہاز پر آ کر عراق کی جنگ جیتنے کا اعلان کیا۔ بش انتظامیہ نے یہ بات محسوس کی کہ صدر نے اس جنگ کے قانونی خاتمے کا اعلان نہیں کیا کیونکہ امریکہ نے عراق جنگ کو کبھی بھی قانونی جنگ قرار نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج آٹھ سال سے زیادہ عرصہ عراق میں رہی۔

  • تیرہ دسمبر 2003، صدام گرفتار

    تیرہ دسمبر کو امریکی منتظم پال بریمیر نے بغداد میں موجود صحافیوں کو بتایا ’خواتین و حضرات، ہم نے اسے پکڑ لیا ہے۔‘ امریکی فوج نے اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کو ان کے آبائی قصبے تکریت سے زیرِ زمین بنکر سے گرفتار کیا۔ سنہ دو ہزار چھ میں نئی عراقی حکومت نے صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلایا جس میں صدام کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی گئی۔

  • سنہ دو ہزار چار، سرکشی جاری

    سنہ دو ہزار تین کے آخر تک مزاحمت کاروں نے امریکہ کی حمایت یافتہ افواج کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ سنہ دو ہزار چار میں امریکی افواج کو عراقی شہر فلوجہ میں مزاحمت کارروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فلوجہ کی دوسری جنگ نومبر سنہ دو ہزار چار میں شروع ہوئی جسے مہلک ترین جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں بارہ سو مزاحمت کارروں کے علاوہ آٹھ سو عام شہری مارے گئے جبکہ اتحادی افواج کے سو سے زیادہ سپاہی بھی ہلاک ہوئے۔

  • سنہ دو ہزار چار، ابو غریب سکینڈل

    سنہ دو ہزار چار میں ابو غریب سکینڈل منظرِ عام پر آیا۔ اس سکینڈل کی تصاویر کو امریکی ٹی وی کے ایک پروگرام میں دکھایا گیا۔ ان تصاویر میں امریکی فوجیوں کو ابو غریب جیل کے قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم کرتے دکھایا گیا۔ ان تصاویر کی اشاعت پر امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ فعل ’چند برے افراد‘ کا ہے۔ تاہم سنہ دو ہزار آٹھ میں امریکی سینیٹ کی مسلح سروسز کی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ عمل جارحانہ تکنیک کا حصہ تھا۔

  • سنہ 2005، خود کش حملوں کا سلسلہ پھیل گیا

    عراق میں سنہ دو ہزار پانچ میں خود کش حملوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ اس سال 478 خود کش حملے کیے گئے۔ مزاحمت کارروں کا ہدف فوجی اہلکاروں سے ہٹ کر عام شہریوں کی جانب ہو گیا۔ یہ سلسلہ اتنا پھیلا کہ سنی اور شعیہ مسلک کے افراد نے ایک دوسرے پر حملے کرنے شروع کر دیے۔

  • مئی سنہ 2006، نئی حکومت کا قیام

    مئی سنہ ہزار چھ میں عراقی کے وزیرِاعظم نورالمالکی نے پہلی بار نئی حکومت کی پارلیمانی منظوری لی۔ اسی برس جولائی میں اتحادی افواج نے پہلی بار عراقی صوبے متانا کا کنٹرول عراقی حکام کے حوالے کیا۔

  • جنوری 2007، فوجیوں کی تعداد میں اضافہ

    عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد امریکہ نے تشدد زدہ علاقوں میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یہ فوجی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی قیادت میں روانہ کیے گئے۔ اس مشن کا نام تھا ’عراقیوں کے دل و دماغ جیتنا‘۔ اس مشن کے تحت سنہ دو ہزار آٹھ تک عراق کے کچھ علاقوں میں جاری تشدد میں اسی فیصد کمی ہوئی۔

  • تیس اپریل 2009، برطانوی فوج کی عراق سے واپسی

    سنہ دو ہزار نو میں برطانوی فوجیوں کی عراق کے شہر بصرہ سے واپسی شروع ہوئی۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں عراق میں موجود آخری اکاسی برطانوی فوجی بھی واپس چلے گئے۔ اس جنگ میں 179 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔

  • اکتیس اگست 2010، امریکی افواج کی واپسی

    سنہ دو ہزار دس میں عراق میں موجود امریکی افواج کی واپسی شروع ہوئی۔

  • اکتوبر2011 جنگ کے خاتمے کا اعلان

    امریکی صدر براک اوباما نے عراق کی جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اوباما نے وعدہ کیا کہ عراق میں موجود افواج کرسمس تک واپس آجائیں گی۔ واضح رہے امریکہ اور عراق کے درمیان امریکی فوج کی عراق سے واپسی کی معاہدہ رواں برس اکتیس دسمبر کو ختم ہو رہا ہے۔

امریکہ کی جانب سے سنہ دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمۂ اجل بنے جبکہ اس جنگ پر کروڑوں ڈالرز خرچ ہوئے۔عراق میں جمعرات کو نو سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد بی بی سی نے اہم واقعات پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔