اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

2012: ’کنجی راولپنڈی کے ہاتھ میں ہے‘

پاکستان میں سنہ دو ہزار گیارہ میں ساڑھے چار ہزار ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان افراد میں سکیورٹی اہلکار، عام شہری، دہشت گرد اور وہ افراد بھی شامل ہیں جو بلوچستان اور کراچی میں سیاسی ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ دارانہ واقعات میں ہلاک ہوئے۔ لیکن ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد سنہ دو ہزار دس کے مقابلے میں تین ہزار کم ہے۔ کیا دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے یا کوئی اور وجہ ہے اور اگلا سال اس تعلق سے کیا لے کر آ رہا ہے۔ یہ جاننے کے لیے ہمارے ساتھی وسعت اللہ خان نے مباحثہ منعقد کیا جس میں سابق سفیر ظفر ہلالی، صحافی مظہر عباس اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے ڈاکٹر مطاہر شیخ شامل تھے۔