لندن اولمپکس میں شرکت کے خواب

آخری وقت اشاعت:  منگل 10 جنوری 2012 ,‭ 13:32 GMT 18:32 PST

اولمپکس میں شرکت کا خواب

  • ’میں ابھی تک لیجنڈ نہیں بنا ہوں۔ میں یہ رتبہ حاصل کرنے کی راہ پر ہوں تاہم اس کے لیے مجھے لندن جانا ہو گا جہاں میں لوگوں کو حیران کر دوں گا‘۔

    یوسین بولٹ، جمیکا

    یوسین بولٹ ان ایتھلیٹس میں سے ایک ہیں جن کی لندن اولمپکس کے لیے تیاریوں پر بی بی سی نے نظر رکھی ہے۔

    سنہ 2011 بولٹ کے لیے خوشگوار سال ثابت نہیں ہو سکا۔ وہ جنوبی کوریا میں عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں سو میٹر کی دوڑ میں وقت سے پہلے دوڑنے پر مقابلے سے باہر ہوگئے تھے۔

    بولٹ دو سو میٹر کی دوڑ میں عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ وہ دنیا کے پہلے ایسے ایتھلیٹ ہیں جو ایک ہی وقت میں ایک سو اور دو سو میٹر کی دوڑ میں اولمپکس اور عالمی چیمپیئن ہیں۔

  • ’میرا ایک کوچ ہے لیکن غزہ میں میرا کوئی مدِمقابل نہیں ہے۔ میں اپنی زیادہ تر ٹریننگ خود ہی کرتا ہوں‘۔

    نادر المصری، فلسطین

    غزہ سے تعلق رکھنے والے نادر المصری نے غزہ میں منعقد ہونے والی پہلی پانچ ہزار میٹر کی دوڑ چودہ منٹ اکیس سیکنڈز میں جیتی تاہم وہ اولمپکس مقابلوں میں کوالیفائی کرنے کے لیے مقررہ وقت میں یہ فاصلہ طے نہ کر سکے۔ المصری کو بتایا گیا ہے کہ انہیں لندن اولمپکس کے لیے وائلڈ کارڈ نہیں دیا جائے گا۔

  • ’وہ بہت ہی خاص دن تھا جب میں دوسری بار عالمی چیمپیئن بنا‘۔

    ایلسٹر براؤن لی، برطانیہ

    ایلسٹر براؤن تین مختلف مظاہروں پر مشتمل جسمانی ورزشوں کے مقابلے دو بار جیت چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں ورلڈ چیمپئن اور سنہ دو ہزار نو میں یورپی چیمپئن شپ جیتی۔

  • ’میں لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کی خاطر بہترین کارکردگی دکھاؤں گا کیونکہ مجھے یہ کرنا ہی ہے‘۔

    حیدر راشد، عراق

    عراقی کشتی ران حیدر راشد لندن اولمپکس میں شرکت کے لیے پرامید ہیں۔ وہ گزشتہ سال منعقد ہونے والے کشتی رانی کے عالمی مقابلوں میں چونتیس افراد میں سے ستائیسویں نمبر پر آئے تاہم ان کے پاس اپریل میں منعقد ہونے والے ایشیائی مقابلوں کی صورت میں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کا موقع ہے۔

  • ’میرے دادا کہتے ہیں کہ میں نے پہلے ہی وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو وہ اپنی پوری زندگی میں حاصل نہیں کر پائے‘۔

    اولگا خرلان، یوکرائن

    یوکرائن سے تعلق رکھنے والی اولگا شیفیلڈ میں ہونے والی یورپی تیغ زنی چیمپیئن شپ کی فاتح ہیں تاہم وہ اٹلی میں منعقد ہونے والی عالمی چیمپیئن شپ میں کانسی کا تمغہ ہی جیت سکیں۔

  • فرانس کے جولین ایبسالون بائیسکلنگ مقابلوں کے لیے پر امید ہیں۔

    جولین ایبسالون عموماً کراس کنٹری بائیسکل مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ سنہ دو ہزار گیارہ کی یورپی چیمپئن شپ میں چاندی جبکہ عالمی مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ جیولین نو بار فرنچ چیمپیئن شپ جیت چکے ہیں انہوں نے لندن اولمپکس کے لیے کی گئی تجرباتی ریس بھی جیتی تھی۔

  • ’میں نے کوسوو کی نمائندگی کے لیے بڑے اور اہم ممالک سے آنے والے چند بڑی آفرز کو رد کر دیا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی میرے پاس آئے اور کہے کہ یہ ممکن نہیں ہے‘۔

    مجلندہ کلمندی، کوسوو

    کوسوو سے تعلق رکھنے والی مجلندہ لندن اولمپکس میں جوڈد کراٹے مقابلوں کے لیے بہت پر امید ہیں۔ انہوں نے کوسو میں جوڈو کراٹے مقابلوں میں سونے کے تین تمغے جیت کر لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔ مجلندہ لندن اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندنگی کرنے والی پہلی ایتھلیٹ ہوں گی۔

  • ’آپ کو صورتحال کے مطابق خود کو محدود کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ آپ کا تعلق کچی بستی سے ہے۔ کچی بستی سے تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا برتاؤ بھی ایسا ہو جیسے کہ آپ وہیں موجود ہیں‘۔

    جی ہو گورڈن، ٹرینیڈاڈ

    ٹرینیداد سے تعلق رکھنے والے جی ہو گورڈن لندن اولمپکس میں شرکت کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے ڈائمنڈ لیگ ریس میں انچاس اعشاریہ نو سیکنڈز کی رفتار سے بھاگتے ہوئے رکاوٹوں کی دوڑ جیتی اور اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔ اس سے پہلے وہ عالمی مقابلوں میں چار سو میٹر کی رکاوٹوں کی ریس نہیں جیت پائے تھے۔

  • کینیا کی لائینیٹ مسائی لندن اولمپکس میں طویل دوڑ کے بارے میں پر امید ہیں۔

    مسائی نے گزشتہ برس ایڈنبرا میں منعقدہ ریس جیت کر لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔اس ریس میں وہ اپنی ہم وطن ویوین سریوٹ سے صرف آٹھ سیکنڈ کے فرق سے جیتیں۔ تاہم ویوین نے ورلڈ گراس چیمپیئن شپ میں مسائی کو شکست دے کر اپنی ہار کا بدلہ لیا۔

  • ’میں بہت خوش ہوں کہ ہم سب یہاں ہیں۔ میں اس لیے بھی خوش ہوں کہ میرے والدین نے اس دن کو دیکھا۔ انہوں نے جو قربانی دی انہیں اس کا صلہ مل گیا‘۔

    لول ڈینگ، برطانیہ

    برطانوی باسکٹ بال ٹیم کے رکن لول ڈینگ کو برطانوی باسکٹ بال جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سال کا بہترین کھلاڑی قراد دیا گیا۔ انہوں نے برطانیہ کو یورو باسکٹ بال چیمپئن شپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانیہ کو لندن اولمپکس میں ان سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔

  • ’ان کے لیے وہ بہت جذباتی فیصلہ تھا کہ وہ ہمارے بیٹے کی سرجری چھوڑ کر باکسنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لیں لیکن انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ یہ مقابلے جیتیں گی اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا‘۔

    امولر کوم

    بھارتی باکسر میری کوم لندن اولمپکس کے لیے بہت پرامید ہیں۔ بھارت کے شہر منی پور سے تعلق رکھنے والی میری کوم کو اپنے بیٹے کے دل کے آپریشن کے دوران باکسنگ کے ایک مقابلے میں حصہ لینا پڑا اور انہوں نے یہ مقابلہ جیتا۔ میری کوم نےگزشتہ بارہ سالوں کے دوران آٹھ بار باکسنگ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

  • ’اگر آپ بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کریں تو اس کے لیے آپ کو باہر نکلنا ہو گا اور بہت سی قربانیاں بھی دینا ہوں گی‘۔

    مرلن ڈائمنڈ، نمیبیا

    مرلن ڈائمنڈ کا کیریئرگزشتہ سال کے دوران کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔ وہ گزشتہ سال کے شروع میں برطانیہ گئیں جہاں انہوں نے لندن اولمپکس پارک کا پہلی بار دورہ کیا۔ جس کے بعد وہ اپنے خاندان اور دوستوں کو چھوڑ کر ماریشیس چلی گئیں اور وہاں انہوں نے ٹریننگ حاصل کی۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ آئی او سی نے انہیں سپانسر کیا۔ اب مرلن لندن اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گی۔

  • ’مجھے امید ہے کہ میں میڈلز جیت کر اپنے ملک کے لیے امن اور خوشحالی لاؤں گا‘۔

    روح اللہ نکپائی، افغانستان

    روح اللہ نکپائی نے ایشین اولمپکس چیمپئن شپ کے کوالیفائیگ راونڈ میں کانسی کا تمغہ جیت کر لندن اولمپکس میں جگہ بنائی ہے۔

  • ’اولمپکس ٹیم کے لیے دوبارہ منتخب ہونے پر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اولمپکس ٹیم کا حصہ بننا میرے لیے بہت اہم ہے‘۔

    شون جانسن، امریکہ

    امریکہ کی شون جانسن سنہ دو ہزار دس میں ٹخنے کی چوٹ کے باعث زخمی ہو گئی تھیں۔ بد قسمتی سے انہیں ٹوکیو میں منعقد ہونے والی جمناسٹک کے عالمی مقابلوں کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے پین امریکن گیمز میں سونے کے دو تمغے جیت کر امریکہ کی جمناسٹک ٹیم میں اپنی جگہ بنائی اور لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔

  • ’میں اپنی ٹیم کی سب سے عمر رسیدہ رکن ہوں اور اسی لیے میں بڑی بہن کا کردار ادا کر رہی ہوں اور میری ٹیم کے ارکان مجھے بہن کہہ کر بلاتے ہیں‘۔

    وو منیا، چین

    چین کی وو منیا لندن اولمپکس کے لیے بہت پرامید ہیں۔ منیا کی تیراکی کی ساتھی ہی زی نے شنگھائی میں منعقدہ تیراکی کا عالمی مقابلہ جیتا۔ وو منیا نےگزشتہ برس ستمبر میں منعقد ہونے والے تیراکی مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیت کر لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔