اولمپکس کھیلوں میں تمغوں کی تاریخ

آخری وقت اشاعت:  پير 16 جنوری 2012 ,‭ 13:28 GMT 18:28 PST

(none)

گرمائی کھیل

ایتھنز 1896

ایتھنز 1896
  • ضخامت 3.8 ملی میٹر،
  • قطر 48 ملی میٹر،
  • وزن 47 گرام،
  • تعداد 100
  • ڈیزائنر: جولیس کلیمنٹ چیپلن

پہلے جدید اولمپکس میں اول نمبرپر آنے والے کھلاڑیوں کو سونے کے بجائے چاندی اور دوسرے نمبر پر آنے والوں کو تانبےکے تمغے دیے گئے تھے۔ ان سکوں کے سامنے والے حصے پر یونانی دیوتاؤں کے دیوتا زیس کو فتح کی دیوی نائیکی ۔کو ہاتھ میں لیے کھڑے دکھایا گیا۔ سکے کی پشت پرروایتی یونانی قعلے کا عکس تھا۔

پیرس 1900

پیرس 1900
  • ضخامت 3.2 ملی میٹر،
  • قطر 59 ملی میٹرضرب اکتالیس ملی میٹر،
  • وزن 53 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: فردریک ورنون

طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے پہلی مرتبہ دیے گئےجبکہ ڈسکس کے درمیان تمغہ ایک مستطیل شکل میں بنایا گیا۔ اس کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی بنی ہوئی تھی اور پشت پر ایک کامیاب اتھلیٹ کی شبہیہ تھی۔

ayn,, lvYa 1904

ayn,, lvYa 1904
  • ضخامت 3.5 ملی میٹر،
  • قطر 37.8 ملی میٹر،
  • وزن 21 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: دیگس اور کلسٹ سٹاف

ان تمغوں پر ایک اتھلیٹ کا عکس تھا جو فتح کا نشان اٹھائے ہوئے تھا۔ نائیکی کا نشان پشت پرتھا۔

لندن 1908

لندن 1908
  • ضخامت 4.4 ملی میٹر،
  • قطر 33 ملی میٹر،
  • وزن 21 گرام،
  • تعداد 250
  • ڈیزائنر : برٹرام میکنال

شاہ جارج پنجم کے دور کے سکے اور ٹکٹوں کو ڈیزائن کرنے والے مشہور آسٹریلین ڈیزائنر بٹرام میکانیل نے تمغے ڈیزائن کیے۔ ان تمغوں پر دو خواتین کو ایک اتھلیٹ کے سر پر تاج پہناتے ہوئے دکھایا گیا اسپرانگلینڈ کے سینٹ جارج کو بھی دکھایا گیا۔

اسٹاک ہوم 1912

اسٹاک ہوم 1912
  • ضخامت 1.5 ملی میٹر،
  • قطر 33.4 ملی میٹر،
  • وزن 24 گرام،
  • تعداد 90
  • ڈیزائنر: برٹرام میکانل اور ارک لنڈبرگ

سٹاک ہوم کے تمغوں پرایک ہرکارے کو کھیلوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس پرسویڈن میں جمانسٹک کے بانی پہر ہینرک لنگ کی تصویر بھی تھی۔

آنٹورپ 1920

آنٹورپ 1920
  • ضخامت 4.4 ملی میٹر،
  • قطر 59 ملی میٹر،
  • وزن 79 گرام،
  • تعداد 450
  • ڈیزائنر: جوزے ڈیپون

اس پریونانی دیومالائی کردار سلویس برابو کا عکس ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ اس نے ایک دیو درون اینٹگون کا ہاتھ آنٹورپ کے دریا شلت میں پھینک دیا تھا۔

پیرس 1924

پیرس 1924
  • ضخامت 4.8 ملی میٹر،
  • قطر 55 ملی میٹر،
  • وزن 79 گرام،
  • تعداد 304
  • ڈیزائنر: اندرے ریود

کھیل کو کھیل کے طور پر لینے کے جذبے کے تحت تمغوں کے سامنے والے حصے پر ایک اتھلیٹ کو دوسرے اتھلیٹ کو اٹھنے میں مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کی پشت پر ایک ساز اور آلہ کھیل بنا ہوا تھا۔

ایمسٹرڈیم 1928

ایمسٹرڈیم 1928
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 55 ملی میٹر،
  • وزن 66 گرام،
  • تعداد 254
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

لاس انجلس 1932

لاس انجلس 1932
  • ضخامت 5.7ملی میٹر،
  • قطر 55.3 ملی میٹر،
  • وزن 96 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

برلن 1936

برلن 1936
  • ضخامت 5.7ملی میٹر،
  • قطر 55 ملی میٹر،
  • وزن 71 گرام،
  • تعداد 320
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

لندن 1948

لندن 1948
  • ضخامت 5.1 ملی میٹر،
  • قطر 51.4 ملی میٹر،
  • وزن 60 گرام،
  • تعداد 300
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

ہیلسنکی 1952

ہیلسنکی 1952
  • ضخامت 4.8 ملی میٹر،
  • قطر 51.4 ملی میٹر،
  • وزن 46.5 گرام،
  • تعداد 320
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

میلبورن 1956

میلبورن 1956
  • ضخامت 4.8 ملی میٹر،
  • قطر 51.4 ملی میٹر،
  • وزن 68 گرام،
  • تعداد 280
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

روم 1960

روم 1960
  • ضخامت 6.5 ملی میٹر،
  • قطر 68 ملی میٹر،
  • وزن 211 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

تمغوں کا ڈیزائین تو تقریباً وہی رہا لیکن ان کے اردگر پتوں اورزنجیر کا تاج بنا دیا گیا۔ مزید یہ کہ اسکے سامنے والے عکس کو پشت کے عکس سے بدل دیا گیا۔

ٹوکیو 1864

ٹوکیو 1864
  • ضخامت 7.5 ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 62 گرام،
  • تعداد 314
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی/توشیکاکا کوشیبا

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

میکسیکو سٹی 1968

میکسیکو سٹی 1968
  • ضخامت 6 ملی میٹر
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 130 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

فلورنٹائن مجسمہ ساز اور مصور جوزیہ کاسیولی نے تمغے ڈیزائن کرنے کا آئی او سی کا مقابلہ جیتا اور انیس سو اٹھائیس سے انیس سو اڑسٹھ تک تمغوں کا ڈیزائن یکساں رہا۔

تمغے کے سامنے والے حصے پر فتح کی دیوی نائیکی کی تصویر ہے جو ہاتھ میں جیتنے والے کا تاج اورپام کی ٹہنی لیے کھڑی ہے اوراس کی پشت پر ایک جیتنے والے کھلاڑی کا عکس ہے جسے لوگ کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں۔

میونخ 1972

میونخ 1972
  • ضخامت 6.5 ملی میٹر،
  • قطر 66 ملی میٹر،
  • وزن 102 گرام،
  • تعداد 364
  • ڈیزائنر: گریہاڈ مارکس

چوالیس برس میں پہلی مرتبہ میونخ کے منتظمین نے روایت سے ہٹتے ہوئے تمغوں کی پشت پر گریہارڈ مارکس سے ایک عکس بنوایا جس میں یونانی دیومالائی کرداروں کاسٹرو اور پولکس کی تصاویر بنائیں۔ ان دونوں بھائیوں کی ماں لیدا تھیں لیکن ان کے باپ سپارٹن کے بادشاہوں تھینڈرس اور زیس تھے۔

مانٹریال 1976

مانٹریال 1976
  • ضخامت 5.8 ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 154 گرام،
  • تعداد 420
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

تمغوں کی پشت کے ڈیزائن کے انداز کو برقرار رکھا گیا صرف اس میں پتوں کے تاج اور میزبان شہر کے اولمپک کے نشان کا اضافہ کر دیا گیا۔

ماسکو 1980

ماسکو 1980
  • ضخامت 6.8 ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 125 ملی میٹر،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

میزبان شہرکا لوگو تمغوں کی پشت پر بنانے کی روایت جاری رکھی گئی جسکے نیچے سٹیڈیم اور اولمپک مشعل کی تصویر بنائی گئی تھی۔

لاس انجلس 1984

لاس انجلس 1984
  • ضخامت 7.9ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 141 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی

تمغے کا ڈیزائن پھر کاسیولی کی طرز پر بنا دیا گیا لیکن اس میں امریکی مصور ڈوگالڈ سٹریمر نے کچھ اختراع کی۔

سیئول 1988

سیئول 1988
  • ضخامت 7 ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 152 گرام ،
  • تعداد 525
  • ڈیزائنر: جوزیہ کاسیولی و ایلیا پوستول

تمغوں کے ڈیزائن میں پھر جدت کی گئی جس میں ایک فاختہ کوایک شاخ کے ساتھ دکھایا گیا اور اس پر سیئول اولمپک کا لوگو بھی بنایا گیا تھا۔

بارسلونا 1992

بارسلونا 1992
  • ضخامت 9.8 ملی میٹر،
  • قطر 70 ملی میٹر،
  • وزن 231 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: ہاویر کوربیرو

سپین کے مشہور مجسمہ ساز ہاویر کوربیرو تمغے کے سامنے والے حصے پر نائیکی کی شبہیھ واپس لائے اورانہوں نے پشت پر بارسلونا اولمپکس کا لوگو بنایا ۔

ایٹلانٹا 1996

ایٹلانٹا 1996
  • ضخامت 5 ملی میٹر،
  • قطر 70 ملی میٹر،
  • ،وزن 181 گرام
  • تعداد 637
  • ڈیزائنر: میلکم گریئر ڈیزائنرز

روایتی نائیکی کا ڈائزائن واپس آیا ۔ تمغے کی پشت پر ایٹلانٹا کا لوگو، اولمپکس مشعل اور ستارے اور ایک شاخ جو کہ جدید دور کے سوویں سال کی عکاسی کرتی تھی۔

سڈنی 2000

سڈنی 2000
  • ضخامت 5 ملی میٹر،
  • قطر 68 ملی میٹر،
  • وزن 180 گرام ،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: ووسیچ پیترانیک

اس ڈیزائن نےاس وقت ایک تنازع کھڑا کر دیا جب کچھ ناقدین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ تمغے کا سامنے والا حصہ یونانی روایت کی عکاسی نہیں کرتا اور رومی کلاسیم کا عکاس ہے۔ سکوں کا ڈیزائن بنانے والے آسٹریلوی فن کار ووسیچ پیترانیک نے تمغے کی پشت پر اولمپک مشعل اور سڈنی اوپیرا ہاؤس کا عکس بنا دیا۔

ایتھنز 2004

ایتھنز 2004
  • ضخامت 5 ملی میٹر،
  • قطر 60 ملی میٹر،
  • وزن 135 گرام ،
  • تعداد 1130
  • ڈیزائنر الینا ووتسی

یونانی یونان کی طرف لوٹ گئے اور نائیکی کا عکس بنایا گیا جو 1896 کے پیناتھانک سٹیڈیم کے اوپر محوپرواز ہے اور طاقتوروں، تیزرفتاروں اور طویل قامت کھلاڑیوں کو فتح سے ہمکنار کرتی ہے۔

بیجنگ 2008

بیجنگ 2008
  • ضخامت 6 ملی میٹر
  • قطر 70 ملی میٹر،
  • وزن 200 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: ژاؤ یونگ

یونانی دیوتا اور سٹیڈیم سامنے حصے پر رہے۔ پشت پر مقدس چینی پتھر لگایا گیا

لندن 2012

  • ضخامت 7 ملی میٹر،
  • قطر 85 ملی میٹر،
  • وزن 400 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر : ڈیوڈ واٹکنز

یہ اب تک کے سرمائی اولمپکس کا سب سے بڑا تمغہ تھا۔ فن کار ڈیویڈ ایٹکنز کا کہنا ہے کہ اس کے سامنے اور پشت کے حصے پردیوی نائیک

سرمائی کھیل

1924
1928
1932
1936
1948
1952
1956
1960
1964
1968
1972
1976
1980
1984
1988
1992
1994
1998
2002
2006
2010
یورو کا سکہ اور توازن

شمونی 1924

شمونی 1924
  • ضخامت 4 ملی میٹر،
  • قطر 55 ملی میٹر،
  • وزن 75 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: راؤل برنارڈ

ایک سکیئر کوہ سفید کے سامنے ایک ہاتھ میں سکی اور دوسرے میں سکیٹس لیے کھڑا ہے۔ راؤل برنارڈ نے ایک کونے میں اپنا نام بھی کندہ کیا۔

سینٹ موریز 1928

سینٹ موریز  1928
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 50.4 ملی میٹر،
  • وزن 51 گرام،
  • تعداد 31
  • ڈیزائنر: آرنلڈ ہینرودال

ناروے کی ابھرتی ہوئی اتھلیٹ سونجا ہینی نے سکیٹنگ میں تین طلائی تمغے جیتے ۔ اس لیے تمغے پر سکیٹر کی تصویر بنائی گئی جو برفباری کے درمیان اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دکھائی گئی۔

لیک پلیسڈ 1932

لیک پلیسڈ 1932
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 55 ملی میٹر،
  • وزن 51 گرام،
  • تعداد 35
  • ڈیزائنر

اس پرنائیکی کو کوہ اڈیرونڈک پر دکھایا گیا اور اس کے نیچے اولمپک سٹیڈیم اور سکی جمپ کے عکس تھے۔

گارمیش۔ پارتنکرچن 1936

گارمیش۔ پارتنکرچن 1936
  • ضخامت 4 ملی میٹر،
  • قطر 100 ملی میٹر
  • وزن 324 گرام،
  • تعداد 36
  • ڈیزائنر: رچرڈ کلین

نازیوں کے میڈل ڈیزائنر رچرڈ کلین نے نائیکی کو ایک بگی دوڑاتے ہوئے دکھایا اور سرمائی کھیلوں کے آلات نیچے بنائے گئے۔

سینٹ موریز 1948

سینٹ موریز  1948
  • ضخامت 3.8 ملی میٹر،
  • قطر 60.2 ملی میٹر،
  • وزن 103 گرام،
  • تعداد 51
  • ڈیزائنر: پال آندرے دروز

تمغوں کے اوپر ایک مرتبہ پھر برف کے گالے اور اولمپک کی مشعل دکھائی گئی اس کے علاوہ اولمپک کا موٹو تیز، اونچا اور طاقت ور بھی تھا۔

اوسلو 1952

اوسلو 1952
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 70 ملی میٹر،
  • وزن 137.8 گرام،
  • تعداد 48
  • ڈیزائنر: واسوس فالیر وس و کت ایوان

تمغے کی پشت پر اوسلو کے سٹی ہال کی تصویر تھی جس کا افتتاح دو سال قبل ہی ہوا تھا اور اسے ہی اولمپیک کی علامت بنایا گیا تھا۔

کورٹینا دامپزو 1956

کورٹینا دامپزو 1956
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 60.2 ملی میٹر،
  • وزن 120.5 گرام ،
  • تعداد 40
  • ڈیزائنر: کوسٹنٹینو آفر

کوسنٹنٹینو آفر نے میلانی اولمپک دائروں اور اپنی آئڈیل وومن کے ڈیزائن کو کوہ پوماگانیوں کے پس منظر میں پیش کیا۔

وادی اسکوا 1960

وادی اسکوا 1960
  • ضخامت 4.3 ملی میٹر،
  • قطر 55.3 ملی میٹر،
  • وزن 95 گرام،
  • تعداد 60
  • ڈیزائنر: جونز ہرف

اس کا محور نوجوان کھلاڑی رہے اور دائروں کے نیچے کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ کھیل کا نام کندہ کیا جا سکے۔

اینسبروک 1964

اینسبروک 1964
  • ضخامت 4 ملی میٹر،
  • قطر 72 ملی میٹر،
  • وزن 110 گرام،
  • تعداد 61
  • ڈیزائنر: آرتھر زیگلر اور مارتھا کوفال

تمغے کے ایک طرف ایک ڈیزائنر نے تخلیق کی اور دوسری طرف کا ڈائزائن دوسرے ڈیزائنر نے بنایا۔ مارتھا نے کوہ تورلوف کو سامنے کے حصے پر بنایا۔ آرتھر زیگلر نے پچھلے حصہ پر اولمپک دائروں کو شہر کے پل کے نشان کے ساتھ بُن دیا۔

گرونوبل 1968

گرونوبل 1968
  • ضخامت 3.3ملی میٹر،
  • قطر 61 ملی میٹر،
  • وزن 124 گرام،
  • تعداد 250
  • ڈیزائنر: راجر اکسوفون

راجر اکسوفون نے برف کے گالے اور سرخ گلاب اور گرانوبل کی علامت اور پشت پر ہر کھیل کی تصویر کشی کی۔

ساپورو 1972

ساپورو 1972
  • ضخامت 5 ملی میٹر،
  • قطر 57.3 ملی میٹر ضرب 61.3 ملی میٹر،
  • وزن 130 گرام،
  • تعداد 89
  • ڈیزائنر: یاگی کازومی اور اکو تاناکا

سامنے والے حصے پر برف دکھائی گئی اور پچھلے حصہ پر ابھرتے ہوئے سورج ، برف کے گالے اور اولمپک کے دائرے بنائے گئے۔

اینسبروک 1976

اینسبروک 1976
  • ضخامت 5.4 ملی میٹر،
  • قطر 70 ملی میٹر،
  • وزن 164 گرام،
  • تعداد 71
  • ڈیزائنر: آرتھر زیگلر اور مارتھا کوفال

مارتھا کوفال نے پھر اینسبروک کی علامت اور دائرے بنائے۔ پشت پر جدید طرز ایلپس اور برژیسل کے سکئی کرنے کا علاقہ اور اولمپک آلاؤ۔

لیک پلیسڈ 1980

لیک پلیسڈ 1980
  • ضخامت 6.1 ملی میٹر،
  • قطر 81 ملی میٹر،
  • وزن 205 گرام،
  • تعداد 73
  • ڈیزائنر: ٹیفنی اینڈ کو نیویارک

صنوبر کے درخت کی شاخ اورکوہ آدیرونداک کا عکس تمغے پر بنایا۔

سارایوو

سارایوو
  • ضخمات3.1ملی میٹر،
  • قطر 71.1 ملی میٹر ضرب 65.1ملی میٹر،
  • وزن 164 گرام،
  • تعداد 95
  • ڈیزائنر: نبوژا میٹریک

نبوژا میٹرک کا زبردست ڈیزائن کھیلوں کا نشان اور روئی کے گالے سامنے والے حصہ پر بنےاور پشت پر ایک اتھیلٹ کو پتوں کا تاج پہنے ہوئِے دکھایا گیا۔

کیلگری 1988

کیلگری 1988
  • ضخامت 3 ملی میٹر،
  • قطر 69 ملی میٹر،
  • وزن193 گرام،
  • تعداد 89
  • ڈیزائنر: فریڈرک پیٹر

قوم کے مرد اول کے سر کا پہناوا سرمائی کھیلوں کے آلات سے بنایا گیا ۔ برف کے گالے اور میپل کے پتے کی علامت بنائی گئی تھی اس پر کیلگری اور کینیڈا کی سی بھی بنائی گئی تھیں۔

ایلبرٹ وائل 1992

ایلبرٹ وائل 1992
  • ضخامت 9.1ملی میٹر،
  • قطر 92 ملی میٹر،
  • وزن 169 گرام،
  • تعداد 89
  • ڈیزائنر: لالیک

یہ پہلے سرمائی اولمپک تھے جن میں تمغوں کا میٹیریل تبدیل کیا گیا۔ لالیک نے ہاتھ سے بنایا ہوا شیشہ اورسونا استعمال کیا۔ اولمپک کے دائرے کے پس منظر میں ایلبرٹ وائل کی پہاڑیاں دکھائی گئیں۔

لیلہ ہامر 1994

لیلہ ہامر 1994
  • ضخامت 8.5 ملی میٹر،
  • قطر 80 ملی میٹر،
  • وزن 131 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: اینگریدہانوولد

اینگریدہانوولد نے گرینائٹ کو بنیادی میٹریل کے طور پر استعمال کیا جس سے ناروے کے لوگوں کا قدرت سے لگاؤ ظاہر ہوتا تھا۔ انھیں امید تھی کہ سکی مین کا ڈیزائن لوگوں کے تفنن ، سنجیدگی اور آسانی سے شناخت کیا جا سکنے والا نشان ثابت ہو گا۔

ناگانو 1998

ناگانو 1998
  • ضخامت 8 ملی میٹر،
  • قطر 80 ملی میٹر،
  • وزن 261 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: کسو کوراشینو اور کوگی عجائب گھر

روایتی کسو سیال استعمال کیا گیا جس پر سونا چھڑکا گیا ۔ کھیلوں کی علامت میں کھلاڑیوں کواولمپک میں مقابلہ کرتے دکھایا گیا۔

سالٹ لیک سٹی 2002

سالٹ لیک سٹی 2002
  • ضخامت 10 ملی میٹر،
  • قطر 85 ملی میٹر،
  • وزن 567 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: سکاٹ گیون اور اکسیوم

ایک وزنی ترین میڈل جس کی شکل یوٹا دریا میں پائی جانے والے پتھروں کی طرح تھی۔ پشت کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا جس میں نائیکی کو ہر جیتنے والے اتھیلیٹ کو گلے لگاتے دکھایا گیا۔ سالٹ لیک مشعل کی طرح انھوں نے اسی’اندر کی آگ کو جلانے ‘ کے موضوع کو آگے بڑھایا اور ایک اتھلیٹ کو برف اور چٹانوں سے ابھرتے ہوئے دکھایا گیا۔

تیورن 2006

تیورن 2006
  • ضخامت 10 ملی میٹر،
  • قطر 107 ملی میٹر،
  • وزن 469 گرام،
  • تعداد
  • ڈیزائنر: دارئیو قوانطرینی

اس میں ایک سوراخ تھا جیسے اولمپک کا دائرہ یا اطالوی پیزا۔ اس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ اتھلیٹس کے گلے میں لٹکے ہوئے یہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے۔

وینکور 2010

وینکور 2010
  • ضخامت 6 ملی میٹر
  • قطر 100 ملی میٹر
  • وزن 576 گرام
  • تعداد
  • ڈیزائنر: کورین ہنٹ اور عمر اربیل

اس تمغے کو دوبارہ قابل استعمال مواد سے بنایا گیا تھا۔ اس کو نو مختلف طریقوں سے بنایا گیا اور ہر ایک میں وینکور کے قدرتی مناظر کی عکاسی کی گئی تھی ان میں کورین ہنٹ کے فن کام کی جھلک بھی آتی تھی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔