ملکہ کی ڈائمنڈ جوبلی: ٹیمز میں بحری پریڈ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 مئ 2012 ,‭ 14:33 GMT 19:33 PST

دریائے ٹیمز میں ملکہ برطانیہ کی تخت نشینی کی ساٹھویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب کو لندن میں ساڑھے تین سو برس کے دوران ہونے والا سب سے شاندار بحری تقریب بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تین جون کو ایک ہزار سے زائد کشتیاں ملکہ الزبتھ دوئم کی حکمرانی کے ساٹھ سالہ دور اور برطانیہ کی جہاز رانی کی تاریخ کا جشن مناتی ہوئی ٹیمز میں سفر کریں گی۔

یادگاری سفر میں شریک کشتیاں

ڈائمنڈ جوبلی: ٹیمز کا یادگار سفر

  • میتھیو آف برسٹل

    یہ ٹیوڈر دور کے تجارتی بحری جہاز کی نقل ہے اور ان جہازوں کی نمائندگی کر رہا ہے جو ہنری ہفتم کے دور میں ٹیمز میں تیرتے رہے۔ یہ جہاز بٹلرز وہارف پر کھڑا رہے گا اور مہمانانِ گرامی اس پر سوار ہو کر تقریب سے محظوظ ہوں گے۔

    چودہ سو ستانوے میں اطالوی نژاد مہم جو جان کیبوٹ اپنی اس ننھی کشتی میں ایشیا کا نیا راستہ تلاش کرنے نکلا۔ تین ہزار میل کے سفر کے بعد اس نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا جسے اس نے نیو فاؤنڈ لینڈ کا نام دیا اور اسے آج ہم شمالی امریکہ کہتے ہیں۔ میتھیو کی نقل نے سنہ انیس سو ستانوے میں دوبارہ اس راستے پر سفر کیا۔

    اب میتھیو برسٹل کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہے اور بندرگاہ کے گرد سفر یا پھر فلموں کی شوٹنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے

  • رائل جوبلی بیلز

    بلفرے بجرے کے فلوٹنگ بیل ٹاور پر آٹھ رائل جوبلی گھنٹیاں نصب ہوں گی۔ ان میں سب سے بڑی آٹھویں گھنٹی کا نام الزبتھ ہے، یہ ورشپ فل کمپنی آف ونٹنرز نے عطیہ کی ہے اور اس گھنٹی کا وزن نصف ٹن ہے۔

  • بادبانی ایونیو

    اس یادگار سفر میں حصہ لینے والی بڑی کشتیاں پلوں کے نیچے سے نہیں گزر سکیں گی اور وہ دریائے ٹیمز کے دونوں کناروں پر لنگرانداز ہوں گی۔ لندن برج سے چیری گارڈن تک کے علاقے کو بادبانی کشتیوں کے ایونیو میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ سفر میں چھپن بادبانی کشتیاں، جنگی کشتیاں، دریائے ٹیمز میں مسافر برادری کرنے والی کشتیاں، مچھلی پکڑنے کے ٹرالر اور ٹگ بھی شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ ایک سو ستائیس سال پرانی کشتی ایمزون بھی ڈائمنڈ جوبلی کی تقرییات میں شامل ہو گی۔ سنہ 1969 میں لی گئی اس میں ایک سو ستائیس سال پرانا بجرا نطر آ رہا ہے۔ اس میں سوار سر رابن نوسک جونسٹن پہلے شخص تھے جنہوں نے بادبانی کشتی میں دنیا کے گرد اکیلے چکر لگایا۔ وہ تقریباً چالیس سال بعد دوبارہ اس کشتی پر ڈائمنڈ جوبلی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  • ٹنیشیئس: ’سب برابر ہیں‘

    ٹنیشیئس ایک اونچی کشتی ہے جو جوبلی سیلنگ ٹرسٹ چیرٹی نے سنہ دو ہزار میں تیار کی تھی اور اسے صحت مند اور جسمانی طور پر معذور عملہ دونوں چلا سکتے ہیں۔ یہ بحر اوقیانوس میں تین ہزار میل کا سفر طے کرنے کے بعد ڈائمنڈ جوبلی تقریبات میں حصہ لے گی۔

  • شارپ شائر:

    شارپ شائر لیڈ نامی اس چھوٹی سی کشتی میں بارہ فوجی اہلکار سوار ہیں جن میں سے آٹھ افغانستان، عراق اور دیگر جنگی محاذوں پر زخمی ہوئے۔ یہ لوگ شمالی شارپ شائر سے دریاؤں اور نہروں کے ساتھ ساتھ تین ہفتوں میں سفر مکمل کریں گے۔ دو سو مرحلوں میں یہ لوگ کشتی رانی اور سائیکلنگ کریں گے۔ایک دوسری چھوٹی کشتی جس کا نام شارپ شائر لاس ہے اس کے پیچھے ہوگی۔

  • مسافر برادر کشتیاں

    مقابلے کے دن آپ کو سڑسٹھ مسافر کشتیوں میں کلِفٹن کاسل بھی نظر آئے گی جو اِس تصویر میں ہے۔ یہ کشتی ڈی ڈے کے موقع پر لنگرانداز ہونے والی کشتیوں میں شامل تھی۔ اِس کے ساتھ ٹیمز رِیور بوٹس کی چار کشتیاں بھی کھڑی ہوں گی جو سیاحت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ڈک ٹوؤرز کی طرف سے ڈی کے یو ڈبلیو کو دیکھنا مت بھولیے گا جو آدھی کشتی ہے اور آدھا ٹرک۔ اِسے دوسری جنگِ عظیم کے دوران اُن ساحلوں پر سامان اتارنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں پر کشتیاں کھڑی کرنے کا نظام تباہ ہو گیا تھا۔

  • چھوٹی کشتیاں اور ناؤ، ایک شاندار تاریخ

    ماضی میں برطانیہ میں سامان لے جانے کے لیے واحد ذریعہ سمجھی جانے والے یہ کشتیاں تین جون کو ایک بڑے بحری کارواں کا حصہ بننے کے لیے ٹیمز میں سفر کریں گی۔

  • موٹر بوٹس اور تفریحی کرافٹ

    ملک کے مختلف علاقوں میں موجود کشتیوں کے کلبوں سے ساٹھ موٹر بوٹس کو دریائے ٹیمز کے مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ان ساٹھ میں ’شیکن ناٹ سٹرڈ‘ نامی کشتی شامل ہے جو جیمز بونڈ کی فلم ’دی ورلڈ از ناٹ اِنف‘ کے شروع میں دکھائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مقابلے میں کینیا سے آئی ہوئی سیکو نامی کشتی اور ویٹ ویلز بھی شامل ہے۔

  •  الاسکا اور شاہی تعلق

    الاسکا اور شاہی تعلق

    اٹھارہ سو تراسی میں بنایا جانے والا الاسکا ٹیمز میں تیرنے والا سب سے پرانا بحری جہاز ہے۔ سنہ دو ہزار نو میں الاسکا کو اس وقت ایک دن کے لیے شاہی بجرے کی حیثیت حاصل ہوئی جب ملکہ برطانیہ اس پر تشریف لائیں۔

    تقریب کے لیے اس جہاز کے عرشے کو سرخ، سفید اور نیلی جھنڈیوں سے سجایا جائے گا۔ اور اس کا کپتان اور انجینئر وکٹورین طرز کی ملاحوں کی وردی پہنیں گے۔

  • میسی شاء اور دیگر فائر بوٹس

    لندن کی فائر بریگیڈ کی سب سے مشہور فائر بوٹ تقریب کے دن بحری بیڑے کا حصہ ہوگی۔ میسی شاء نامی یہ اس کشتی نے ڈنکرک کے پانیوں سے پانچ سو فوجیوں کو بچا کر ساحل تک پہنچایا تھا۔

    یہ کشتی اب ریٹائر کی جا چکی ہے اور جون انیس سو اکتالیس کی اس تصویر میں اسے دریائے ٹیمز پر تیرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تین جون کو تقریب کے دوران لندن فائر بریگیڈ کی دو موجودہ کشتیاں فائر فلیش اور فائر ہاک بھی حصہ لیں گی۔

  • جنگی کشتیاں:جنگی ہیرو

    تقریب کے دوران ایک سو چالیس سے زائد تاریخی کشتیاں ملکہ کے اعزاز میں ٹیمز میں سفر کریں گی۔ دوسری جنگِ عظیم میں اہم کردار ادا کرنے والے جہازوں کی نمائندگی ایئر سی ریسکیو، ایئر فورس ریسکیو، برٹش آرمی اور برطانوی بحریہ کریں گی۔ ایچ ایس ایل 102 جیسی تیز رفتار لانچ ان بائیس امدادی کشتیوں میں سے ہے جنہوں نے برطانوی پانیوں سے تیرہ ہزار ملاحوں کی جان بچائی ہے۔ اس کشتی کو 1993 میں دوبارہ تیار کیا گیا اور مادر ملکہ نے 1996 میں اس کا افتتاح کیا اور اب یہ ڈیوک آف اینڈبرا اور ڈیوک آف کینٹ کی شاہی کشتی کے طور پر کام کرتی ہے۔

  • ٹگ بوٹس، سٹیمر اور لائف بوٹس

    ملکہ کو سلامی پیش کرنے کے لیے کئی تاریخی ٹگ بوٹس اور لائف بوٹس بھی ٹیمز کے سفر میں حصہ لیں گی۔ ویل ڈیل انہی ٹگ بوٹس میں سے ایک ہے۔ اسے انیس سو انسٹھ میں بنایا گیا تھا اور انیس سو چھیاسی تک اسے کوئلے کی باربرداری کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انیس سو ستانوے میں اسے یارکشائر واٹر وے میوزیم نے خرید کر اسے دوبارہ تیار کیا۔ قدیم مسافر بردار بحری جہازوں میں الاسکا نامی سٹیمر اور کیریٹ نامی لانچ کو شامل کیا گیا ہے۔ کیریٹ آئل آف وائٹ کے لارڈ لیفٹیننٹ کی نمائندگی کرے گی۔

    ملکہ کی تخت نشینی کے ساٹھ برس کے دورن آر این ایل آئی کی لائف بوٹس نے ایک لاکھ ستتر ہزار سے زائد لوگوں کو بچایا۔ اس تقریب میں لائف بوٹس کی نمائندگی ڈائمنڈ جوبلی نامی جدید کشتی کرے گی۔

  • چھوٹی ڈنکرک کشتیاں

    پینتالیس چھوٹی ڈنکرک کشتیاں شاہی سیکشن کے عقب میں موجود ہوں گی۔ یہ ان سات سو نجی کشتیوں میں سے چند ہیں جنہوں نے انیس سو چالیس میں آپریشن ڈائنمو کے دوران تین لاکھ پچاسی ہزار برطانوی، فرنچ اور بیلجیئن فوجیوں کے انخلاء میں حصہ لیا تھا۔ مزید پانچ کشتیاں ایوینیو آف سیل پر لنگر انداز ہوں گی۔ ان میں ایٹ ٹی بی 102 بھی ہو گی جو چرچل اور آئزن ہاور کوانیس سو چوالیس میں ڈی ڈے بیڑے کے معائنے کے لیے لے کر گئی تھی۔ اس کے علاوہ وہاں بریٹینک نامی کشتی بھی ہو گی جس نے تین ہزار افراد کو بچایا تھا۔

  • شاہی بجرے کی ہمراہی اور نقیب کشتیاں

    متعدد کشتیاں شاہی بجرے سپرٹ آف چارٹ ویل کے ہمراہ ہوں گی۔ ان میں سابق برطانوی شاہی کشتی بریٹینیا کی مددگار کشتیاں بھی شامل ہیں۔ ان کشتیوں کا عملہ ملکہ کے سابق ملاحوں پر مشتمل ہوگا جنہیں یوٹیز کہا جاتا ہے۔ میرین سوسائٹی کے ارکان اور برطانوی بحریہ کے کیڈٹس ٹرینٹی پانچ سو کشتیاں چلائیں گے جن پر دولتِ مشترکہ کے چون ارکان کے پرچم لہرا رہے ہوں گے۔ٹرنٹی ہاؤس 1 نامی کشتی اپنا شاہی نقیب کا روایتی کردار نبھاتے ہوئے شاہی بجرے کے آگے چلے گی۔ جب ملکہ کا بجرا کسی پل کے قریب پہنچے گا تو بینڈ بجا کر ان کی آمد کا اعلان کیا جائے گا۔

  • ونسٹن چرچل کی ہیونگور

    ہیونگور نامی یہ کشتی بھی شاہی تقریب کا حصہ ہوگی۔ اس کشتی پر 1965 میں سابق برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل کا جنازہ ٹاور گھاٹ سے فیسٹیول گھاٹ تک لے جایا گیا تھا۔ اس موقع پر ہزاروں برطانوی دریا کے کنارے جمع تھے جبکہ دنیا میں تین سو پچاس ملین افراد نے یہ منظر ٹی وی پر دیکھا تھا۔

  • شاہی کشتی: دی سپرٹ آف چاٹ ویل

    ملکہ اور ڈیوک آف ایڈنبرا اس سنہری کشتی- دی سپرٹ آف چاٹ ویل پر سفر کریں گے، اس کشتی کو شاہی باغ کے پھولوں سے سجایا جائے گا، اور اس کو تزئین و آرائش سترہویں صدی کی طرز پر کی جائے گی۔ دریائے ٹیمز میں سفر کے دوران شاہی جوڑا خصوصی طور پر مزین کرسیوں پر بیٹھے گا اور کرسی کے اوپر سونے کی کنوپی ہو گی۔ اس کشتی پر سرخ رنگ کے پردوں سے سجایا جائے گا، اور کشتی کے سامنے والے حصے پر ملکہ کا تاج اور شاہی نشان نظر آئے گا۔

  • کیاکس اور ڈریگن بوٹس

    ملک کے کنؤ کلبوں کی نمائندگی کرنے لیے اسّی کیاکس بھی تقریب میں شریک ہوں گی۔ اس بیڑے میں پندرہ سجائی گئی ڈریگن بوٹس بھی شامل ہوں گی۔ یہ کشتیاں چین میں ڈھائی ہزار سال پہلے بننا شروع ہوئی تھیں۔ ان کے عملے میں مختلف خیراتی اداروں کے ارکان شامل ہوں گے۔

  • روایتی اور جدید چپو والی کشتیاں

    ملکہ کے اعزاز میں دریائے ٹیمز میں ایک سو اٹھاسی سے زائد چپو سے چلنے والی کشتیاں اتاری جائیں گی۔ ان میں گنڈولا، لائف بوٹس، کیاکس، شیلوپس اور ڈریگن بوٹس بھی شامل ہوں گی۔ چپو والی کشتیاں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اعلٰی شخصیات کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

    تصویر میں دکھائی گئی شاہی شیلوہ اٹھارہویں صدی کے اس بجرے کی نقل ہے اور اسے ملکہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر انہیں تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

  • گلوریانا: شاہی بجرا

    تقریباً نوے فٹ لمبے شاہی بجرا’گلوریانا‘ چپوؤں کی مدد سے چلنے والی سب سے بڑی برطانوی بجراہے۔ یہ بجرا صرف اس مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کو بنانے میں پرنس چارلز کی ذاتی زمینوں پر لگے درختوں کو استعمال کیا گیا ہے۔اگرچہ اس بجرے کا نام شاہی بجرا رکھا گیا ہے لیکن اس پر ملکہ نہیں سوار ہوں گی۔اولمکس گولڈ میڈلسٹ سر سٹیو ریڈگاریو چپو چلانے والے اٹھارہ ملاحوں میں شامل ہونگے۔

بحری پریڈ کا روٹ



ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔