لندن اولمپکس کے نمایاں چہرے

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 22:34 GMT 03:34 PST
  • امریکی تیراک مائیکل فیلپس لندن اولمپکس کے سب سے مشہور چہروں میں ممکنہ طور پر سرفہرست ہیں۔

    فیلپس نے اپنے کیریئر میں چار اولمپکس میں کل بائیس اولمپک تمغے جیتے ہیں جن میں سے اٹھارہ طلائی تمغے ہیں۔

    فیلپس پہلی بار سنہ 2000 میں پندرہ سال کی عمر میں سڈنی اولمپکس میں پُول میں اترے تھے. اس کے بعد 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں انہوں نے چھ سونے اور دو کانسی کے تمغے جیتے۔

    پھر 2008 میں بیجنگ اولمپکس میں انہوں نے آٹھ طلائی تمغے جیت کر تاریخ رقم کی۔

    لندن اولمپکس میں اپنے پہلے مقابلے میں چوتھے نمبر پر رہے لیکن پھر انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور آخر میں انہوں نے ان کھیلوں میں سب سے زیادہ چھ تمغے جیتے جن میں چار طلائی اور دو کانسی کے تمغے تھے۔

    27 سالہ فیلپس اب تیراکی سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

  • لندن اولمپکس کے پندرہویں دن جمیکا کے ایتھلیٹ يوسین بولٹ اور اولمپکس کی تاریخ کا تعلق اس وقت اور مضبوط ہو گیا جب بولٹ نے چار ضرب سو میٹر دوڑ جیت کر لندن میں تیسرا طلائی تمغہ اپنے نام کیا.

    يوسین بولٹ نے لندن اولمپکس میں 100 میٹر، 200 میٹر اور 4x100 میٹر کی مقابلے میں طلائی تمغہ جیتے ہیں اور وہ بیجنگ اولمپکس میں بھی انہی تینوں مقابلوں میں فاتح رہے تھے۔

    اولمپکس کی تاریخ میں ایسا کارنامہ کرنے والے بولٹ پہلے کھلاڑی ہیں۔

  • لندن اولمپکس میں باحجاب کئی مسلم ممالک کی باحجاب کھلاڑی بھی سب کی نظروں میں رہیں۔

    قطر، سعودی عرب اور برونائی نے لندن اولمپک میں پہلی بار اپنی خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دی۔

    ان تین ممالک کے علاوہ ایران کی خواتین کھلاڑیوں نے بھی حجاب پہن کر اولمپک میں حصہ لیا۔

    یہ کھلاڑی تمغہ بھلے نہ جیت پائیں لیکن ان کا اولمپکس میں حصہ لینا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • طالبان، دھماکوں اور جھڑپوں کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہنے والا افغانستان بھی لندن اولمپک میں تمغہ جیتنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔

    یہ اعزاز تائیكوانڈو کھلاڑی روح اللہ نكپائي نے اپنے ملک کو کانسی کا تمغہ دلوا کر حاصل کیا۔

    58 کلو گرام زمرے میں کھیلنے والے نكپائي اس سے پہلے 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں بھی کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم چکے ہیں۔ وہ اولمپکس میں افغانستان کو ملنے والا پہلا تمغہ تھا۔

    لندن میں تمغہ لیتے ہوئے نكپائي کی آنکھوں میں آنسو تھے کیونکہ وہ طلائی تمغہ جیتنے کے ارادے سے لندن گئے لیکن انہیں کانسی کے تمغے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

    بیجنگ سے پہلے افغانستان نے بارہ اولمپکس میں حصہ لیا تھا لیکن کبھی تمغہ نہیں جیت پایا۔ اس کے بعد نكپاي نے اپنے ملک کو مسلسل دو مقابلوں میں تمغے دلائے ہیں۔

  • لندن اولمپکس کو جنوبی افریقہ کے آسکر پسٹوريس کے لیے بھی یاد کیا جائے گا جو دونوں پیر نہ ہونے کے باوجود 4x400 میٹر ریلے دوڑ میں شریک ہوئے۔

    وہ پروستھیٹك یعنی گھٹنوں سے جڑی سٹیل کی چھڑیوں کی مدد سے دوڑتے ہیں۔

    حالانکہ اس مقابلے میں جنوبی افریقہ کی ٹیم آخری نمبر پر ہی اور تمغہ جیتنے کا پسٹوريس کا خواب پورا نہ ہو سکا. لیکن وہ 400 میٹر کے انفرادی مقابلے میں سیمی فائنل تک پہنچے۔

    پسٹوريس کے پیدائشی پیر نہیں ہیں۔ اس لیے تمغہ نہ جیت پانے کے باوجود لندن اولمپكس میں سب نے ان کے جذبے کو سلام کیا۔

    اب ان کی پوری توجہ لندن میں ہی انتیس اگست سے شروع ہونے والے پیرالمپك کھیلوں پر ہے جن میں دنیا بھر کے معذور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔

  • چین کی سولہ سالہ تیراک یے شیوین اتنا تیز تیريں کہ سب حیران رہ گئے۔

    400 میٹر میڈلے کے آخری 50 میٹر کی دوری انہوں نے صرف 28.93 سیکنڈ میں طے کی اور یہ وقت مردوں کے طلائی تمغے کے فاتح امریکی تیراک رائن لوکتے سے بھی کم تھا جنہوں نے یہ فاصلہ طے کرنے میں 29.10 سیکنڈ لیے۔

    شیوین کی حیرت انگیز کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں بھی ہوئیں کہ کہیں انہوں نے کارکردگی بہتر کرنے والی دوائیں تو نہیں لیں لیکن شیوین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی طرح کی کوئی دوا یا منشیات نہیں لی۔

    شیوین نے اپنا ہی ذاتی ریکارڈ توڑتے ہوئے پانچ سیکنڈ کے فرق سے چار سو میٹر تیراکی میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا۔

  • لندن اولمپکس میں بیڈمنٹن کے کھیل میں چینی کھلاڑیوں نے اپنا دبدبہ ثابت کر دیا۔

    مردوں کے ڈبلز مقابلوں سمیت ان اولمپکس میں بیڈمنٹن کی پانچوں درجہ بندیوں میں طلائی تمغے چینی کھلاڑیوں کے نام رہے۔

  • لندن اولمپک کئی کھلاڑیوں کے لیے اپنے دیرینہ خواب پورا کرنے کا وجہ بھی بنا۔ اس سلسلے میں خاص کر برطانیہ کی جیسیکا اینس اور کینیا کے ڈیوڈ رڈیشیا کا ذکر ہوگا جنہیں زخمی ہونے کی وجہ سے بیجنگ اولمپکس میں مایوسی ہاتھ لگی تھی لیکن لندن اولمپک میں انہوں نے اپنے مضبوط ارادوں سے کامیابی حاصل کی۔

    جیسیکا نے ہپٹاتھلن مقابلے میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا جبکہ ڈیوڈ رڈیشيا نے 800 میٹر دوڑ میں عالمی ریکارڈ بنایا۔

    ان دونوں ہی کھلاڑیوں کے لئے لندن اولمپک بے شک یادگار بن گیا.

  • لندن اولمپکس کے مشہور چہروں میں برطانوی سائیكلسٹ کرس ہوئے کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے دو ہزار بارہ کے مقابلوں میں اپنا چھٹا اولمپک تمغہ حاصل کیا۔

    لندن اولمپکس میں انہوں نے دو طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ اپنے نام کیے۔

    ہوئے اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے سب سے کامیاب اولمپين ہیں اور انہوں نے بیجنگ اولمپکس میں بھی تین طلائی تمغے جیتے تھے۔

    وہ سنہ 1908 میں ہنری ٹیلر کے بعد ایک ہی اولمپك میں تین طلائی تمغے جیتنے والے پہلے برطانوی کھلاڑی ہیں۔

  • گرینیڈا کے انیس سالہ كراني جیمز نے مردوں کی چار سو میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ یہ ویسٹ انڈیز میں واقع ایک لاکھ دس ہزار کی آبادی والے اس چھوٹے سے ملک کا اولمپکس کھیلوں میں پہلا تمغہ تھا۔

    اس خوشی میں ان کے ملک میں آدھے دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا۔ گرینیڈا کے وزیراعظم تلمان تھامس نے کہا، ’یہ واقعی حیرت انگیز کارنامہ ہے. اس سے گرینیڈا کو بین الاقوامی برادری میں پہچان ملی ہے جو پہلے کھیلوں کے شعبے میں ہمیں حاصل نہیں تھی‘۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔