لبنان کے شہر طرابلس میں جھڑپیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 15:39 GMT 20:39 PST
  • لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں جنگ بندی کے ایک دن بعد ہی شامی صدر کے حامیوں اور مخالفین میں دوبارہ پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
  • تاہم دوسری جانب لبنان کی ریڈ کراس تنظیم نے اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے دارالحکومت بیروت میں امن کے لیے ایک تقریب کی جس میں پوم بتیوں سے امن لکھا گیا۔
  • طرابلس میں بدھ کو مقامی رہنماؤں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن جمعرات کو اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
  • جمعرات کو پرتشدد واقعات کے چوتھے روز ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ اس طرح رواں ہفتے سے اب تک بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ علاقے میں صورتحال معمول پر لانے کے لیے ٹینک تعینات کر دیے گئے۔
  • لبنان میں سنی مسلک کے مسلمان شام میں حزب مخالف کی جب کہ علوی فرقے کے مسلمان شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کر رہے ہیں۔
  • اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفری فلٹمین نے صورتحال کو’نازک‘ قرار دیا ہے۔
  • جیفری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ جس طرح شام میں صورتحال بگڑ گئی ہے اسی طرح سے لبنان میں بھی حالات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
  • لبنان کے صدر مائیکل سیلمان نے غیر متوقع طور پر ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ لبنان ہمیشہ شام کے سائے میں نہیں رہ سکتا ہے۔
  • طرابلس میں جھڑپوں کا مرکز سنی اکثریتی ضلع باب ال تابانا اور علوی اکثریتی ضلع جبل محسن ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔