بھارت میں حکومتی فیصلوں کیخلاف ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 07:38 GMT 12:38 PST
  • بھارتی حکومت کے حالیہ اقتصادی فیصلوں کے خلاف جمعرات کو اپوزیشن کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی جا رہی ہے۔
  • بھارتی حکومت نےگزشتہ ہفتے ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کے علاوہ ہر خاندان کو سال میں سبسڈی والے صرف چھ گیس سلینڈروں کی حد مقرر کر دی ہے۔
  • بہار میں جگہ جگہ سڑکوں پر پہیہ جام ہے اور ٹرینوں کو روکا جا رہا ہے۔
  • حکومت جہاں ان فیصلوں کو اقتصادی اصلاحات کی سمت میں اہم قدم قرار دے رہی ہے، وہیں حزب اختلاف انہیں عوام مخالف قرار دے رہا ہے۔
  • حکومت نے ہر ریاست میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔
  • جمعرات کو ہونے والی اس ہڑتال میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ حکومت کی ساتھی ڈی ایم کے اور سماج وادی پارٹی کے علاوہ دو دن پہلے حکومتی اتحاد یو پی اے سے الگ ہونے والی ترنمول کانگریس بھی حصہ لے رہی ہے۔
  • ریاست اتر پردیش میں حکمران سماج وادی پارٹی اس ہڑتال میں شامل ہے اور اس کے کارکن صبح سے ہی تقریبا ہر بڑے شہر اور چھوٹے قصبے میں بند کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  • ہڑتال کی وجہ سے بازار، اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے ہیں اور چاروں طرف پولیس کا سخت پہرہ ہے۔
  • بنگلور میں حکمراں پارٹی بی جے پی کے کارکن ہڑتال کو یقینی بنانے کے لئے موٹر سائیکل پر گشت کر رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہڑیال نے کرنے والوں کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔