بلوچستان کے بعض علاقوں میں سیلاب سے تباہی

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 17:40 GMT 22:40 PST

بلوچستان میں سیلاب سے تباہی

  • یہ ہیرالدین ڈرین ہے جسے مقامی لوگ سیم نالا کہتے ہیں۔ یہ نالا سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔ جہاں سے اس کا پشتہ ٹوٹا ہوا ہے وہ سندھ کا ضلع جیکب آبا ہے اور دوسری جانب بلوچستان کا ضلع جعفرآباد ہے۔
  • سنہ دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد یہ طے پایا تھا کہ یہاں پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی جب سڑک بنائے گی تو ساٹھ سے زائد پل بنائے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور کروڑوں روپے کی یہ سڑک برباد ہوگئی۔
  • یہاں سے جمالی سردار سڑک توڑ کر پانی نکالنے کی پہلے مخالفت کرتے رہے لیکن بعد میں راضی ہوئے اور اب پائپ بچھا کر سڑک بحال کرنے کا کام ہو رہا ہے۔
  • ڈیرہ اللہ یار کا ممل بوائز سکول جس طرح ڈوبا ہوا ہے اسی طرح بیشتر دیہات میں پانی ہے اور لوگ جان بچا کر سڑکوں کے کنارے پر رہنے پر مجبور ہیں۔
  • یہ پرانی کوئٹہ سڑک ہے۔ یہاں تک ویگن والے لا کر چھوڑتے ہیں اور یہاں سے ڈیرہ اللہ یار کے لیے ٹریکٹر والے فی سواری پچاس روپے لیتے ہیں۔ چند روز پہلے فی سواری ڈھائی سو روپے لیتے تھے۔
  • لوگ اپنا مال مویشی تو پیدل لے کر جاتے ہیں لیکن گاڑیاں اور دیگر سامان ٹریکٹرز پر لاتے ہیں۔
  • جیل میں دو فٹ پانی کھڑا ہے، قیدیوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔ کچھ قیدیوں کے بھاگنے کی بھی اطلاع ہے۔
  • یہاں پر کہیں کہیں بڑی گاڑیاں اور ٹریکٹر بھی پھنس جاتے ہیں اور لوگ گاڑیاں بیچ پانی میں چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
  • مقامی لوگوں کے مطابق دو سے تین فٹ پانی اتر گیا ہے لیکن پھر بھی کشتیاں چلتی ہیں۔
  • ڈیرہ اللہ یار پہنچتے ہی مسافروں کی جان میں جان آتی ہے۔
  • جہاں کشتیاں دستیاب نہیں وہاں ایسے عارضی انتظامات سے کام چلایا جاتا ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔