نصیرآباد میں متاثرینِ سیلاب کی حالتِ زار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 16:22 GMT 21:22 PST
  • نصیرآباد ضلع میں جر کا پانی کھارہ ہے، زراعت، انسانوں اور جانوروں کے استعمال کے لیے پانی کا واحد ذریعہ پٹ فیڈر کینال ہے۔ جس کے کئی جگہوں سے پشتے ٹوٹنے کی وجہ سے پانی بند ہے اور کھڑے پانی میں انسان اور جانور نہاتے بھی ہیں اور کپڑے بھی دھوئے جاتے ہیں۔
  • لوگ اپنے گھروں کا گندا پانی بھی پٹ فیڈر میں ڈالتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آٹھ روز کا پانی رہ گیا ہے اور اگر اس میں پانی نہیں چھوڑا گیا تو یہاں پینے کا پانی بھی نہیں ملے گا۔
  • سڑک کناروں اور پشتوں پر بیٹھے متاثرین کو پینے کا پانی فراہم کرنے کی سہولت بہت محدود ہے۔
  • نصیرآباد میں تاحال حیمے نہیں مل سکے لوگ بے یارو مددگار پڑے ہیں۔
  • ڈیرہ بگٹی کے متاثرین کو مقامی انتظامیہ خارجی قرار دے کر کوئی مدد کرنے کو تیار نہیں۔
  • بارشوں اور سیلاب کی تباہی کو تین ہفتے گذر چکے ہیں لیکن جگہ جگہ مرے ہوئے جانوروں کو نہیں ہٹایا گیا جس کی وجہ سے تعفّن پھیل رہا ہے۔
  • زیادہ تر لوگ جِلد اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان حکومت غیر سرکاری تنظیموں کو کام نہیں کرنے دے رہی اور ان کے اپنے وسائل بھی محدود ہیں۔ ہلال احمر کی اِکا دُکا گاڑیاں دوائیں بانٹتی ہیں۔
  • زیادہ تر متاثرین غریب اور بے روزگار ہیں۔ کچھ بھیک مانگتے ہیں تو کچھ چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔
  • امدادی کیمپوں کے باہر پورا دن انتظار کے بعد کسی کو راشن بیگ ملتا ہے تو کسی کو گالی اور لاٹھی۔
  • امدادی کیمپ سے ایک گاڑی نکلی تو لوگوں نے روک کر سامان اٹھا لیا، متاثرین آپس میں لڑ پڑے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔