گھر ہوں یا قبرستان سب زیرِ آب ہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 08:33 GMT 13:33 PST
  • ضلع کا نام تو جعفر آباد ہے لیکن اس نام کا کوئی یہاں شہر نہیں، لوگوں کے مکان اور کھیتوں کے علاوہ قبرستان بھی ڈوب گئے۔
  • بیشتر لوگ سڑک کنارے چارپائیوں کو سر چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور تاحال خیموں کی تقسیم شروع نہیں ہوئی۔ لیکن کئی ایسے بھی ہیں جو سنہ دو ہزار دس کے سیلاب والے خیمے استعمال کرتے ہیں۔
  • کچھ متاثرین اپنے آپ اور جانوروں کو مچھروں سے بچانے کے لیےگدھے کی مدد سے چلایا جانے والا یہ پنکھا، جسے مقامی زبان میں جھلی کہتے ہیں، استعمال کرتے ہیں۔
  • سڑکوں کے کنارے موجود گندا پانی پینے، نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کی جلد کی بیماری کی شکایات ہیں۔
  • متاثرین کے لیے علاج معالجے کی مناسب سہولیات نہیں ہیں۔ ہلالِ احمر کی ایک موبائل میں سرکاری ہسپتال سے ملنے والی دوائیاں فراہم کی جاتی ہیں۔
  • کوئی کام کاج نہ ہونے کی صورت میں اپنا فارغ وقت گزارنے کے لیے متاثرین تاش کھیلتے نظر آتے ہیں۔
  • بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے۔ آلو پیاز کی قیمت بیس روپے سے چالیس روپے کلو ہوگئی ہے۔
  • کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں میسر نہیں اور خواتین مویشیوں کا گوبر جمع کر کے سکھاتی ہیں اور ان اپلوں پر کھانا بھی پکایا جاتا ہے اور رات کو مچھروں سے بچنے کے لیے دھواں بھی پیدا کیا جاتا ہے۔
  • سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی قومی شاہراہ تین کلومیٹر تک پانی نکالنے کے لیے کاٹی گئی ہے یا پھر سیلابی پانی میں بہہ گئی ہے۔ سنہ دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد طے پایا تھا کہ یہاں درجنوں پلیاں بنیں گی لیکن مقامی لوگوں کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ایسا نہیں ہوا۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔