منفرد اقسام کے مصنوعی اعضاء

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 00:03 GMT 05:03 PST
  • سال دو ہزار چار میں ڈیبرا بیلک ایکوا کی موٹر سائیکل حادثے میں ٹانگ ضائع ہو گئی۔ انہوں نے دو ہزار دس میں خصوصی طور پر تیار کردہ ایک مصنوعی ٹانگ لگوائی۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسروں کی طرح چھپانے کے بجائے اسی مصنوعی ٹانگ کے ساتھ باہر جاتی ہیں۔
  • ڈیزائنر سکاٹ سمیٹ ہڈیوں کے ایک سرجن کے ساتھ کام کرتے ہیں اور مصنوعی اعضاء تیار کرتے ہیں۔ ان میں ڈیبورا کی مصنوعی ٹانگ بھی شامل ہے۔ سکاٹ کے مطابق ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ضائع ہونے والی اعضاء کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کیا جا سکے۔
  • مصنوعی اعضاء تیار کرنے والے ماہرین اعضا کے خول کو تیار کرنے کے لیے سہ رخی یا تھری ڈی پرنٹنگ کرتے ہیں۔ سمِٹ کے مطابق ’تھری ڈی پرنٹنگ حیران کن طور پر ورسٹائل ہوتی ہے، اس طریقے سے آپ ہر وہ چیز پرنٹ کر سکتے ہیں جو آپ خواب میں سوچتے ہیں۔ ہم بہت سارے ایسے اعضا تیار کرتے ہیں جن میں دھاتوں کا قطعی استعمال نہیں کیا جاتا اور یہ نظر آنے میں بہت نازک لیکن حقیقت میں بہت مضبوط ہوتے ہیں۔‘
  • سمِٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گاہکوں سے ان کی پسند کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مصنوعی اعضاء میں سپیڈ یا جارحیت کی جھلک ہونی چاہیے، یا کچھ متحمل لگے۔
  • چیڈ کریٹینڈن ایک کھلاڑی اور ایتھیلیٹ ہیں۔ ان کا پاؤں کینسر کی وجہ سے تقریباً دس سال پہلے ضائع ہو گیا تھا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ایسا مصنوعی پاؤں تیار کرایا ہے جس سے وہ فٹ بال کھیل سکتے ہیں۔
  • سمِٹ کی ٹیم اس کے علاوہ فوجیوں کے لیے بھی مصنوعی اعضا تیار کرتی ہے۔ یہ دیکھنے میں ایسے لگتے ہیں کہ ان میں بہت زیادہ قوت ہے، کیونکہ عام طور پر آپ ایک ایسے لڑکے کے بارے میں بات کرتے ہیں جس کی عمر بیس سال کے قریب ہے اور اس وجہ سے یہ توانائی سے بھرپور ہونا چاہیے۔
  • جیمز کی ٹانگیں موٹر سائیکل کے حادثے میں ضائع ہو گئیں تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کچھ ایسا ہو کہ ان کے ٹیٹوز اور موٹر سائیکل سے مابقت رکھتا ہو۔
  • سمِٹ کی تیار کردہ مصنوعی اعضا کا اوسط وزن ایک سو پچاسی گرام تک ہوتا ہے اور یہ وزن ایک موبائل فون کے برابر ہوتا ہے۔ (تمام تصاویر بشکریہ تھری ڈی سسٹمز کارپوریشن کے بیسپوک فیرنگز)

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔