نوروڈم سہانوک کی زندگی تصاویر میں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 08:13 GMT 13:13 PST
  • کمبوڈیا کے نوروڈم سہانوک کی 1922 میں پیدائش ہوئے۔ انہوں نے فرانس کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ ان کو نازی کے کنٹرول میں فرانس کے شہر وچی حکومت نے 1941 میں ان کے والد نوروڈم سورامرت کی بجائے سہانوک کو کمبوڈیا کا بادشاہ بنا دیا۔
  • فرانس کا خیال تھا کہ سہانوک اس کے زیر اثر رہے گا لیکن سہانوک نے 1953 کمبوڈیا کو آزاد ملک بنا دیا۔ اس کے دو سال بعد انہوں نے اپنے والد کے لیے بادشاہت چھوڑ دی اور وہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ مقرر ہو گئے۔
  • 1966 میں نوم پین میں شاہ سہانوک جنرل چارلس ڈی گول کے ساتھ۔
  • جب 1970 میں امریکہ کی حمایت سے لون نول کمبوڈیا کے رہنما بنے تو سہانوک جلا وطن کردیے گئے اور وہ چین چلے گئے۔ اس دوران انہوں نے کہمئیر روژ کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس تصویر میں سہانوک اور ان کی اہلیہ شہزادی مونیک کہمئیر روژ کے رہنماؤں کے ہمراہ ہیں۔
  • 1975 میں جب کیماروچ نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سہانوک نیجنگ سے کمبوڈیا پہنچے۔ لیکن واپسی پر ان کو محل میں زیر حراست رکھا۔ کیماروچ کے چار سالہ دور میں سہانوک حراست ہی میں رہے۔
  • 1992 میں سہانوک مغربی کمبوڈیا میں کیماروچ کے گڑھ میں۔
  • فینتنام فورسز کے ہاتھوں جب کیماروچ کو شکست ہوئی تو سہانوک ایک بار پھر چین چلے گئے جہاں وہ تیرہ سال رہے۔ وہ 1991 میں واپس آئے۔ ان کو 1993 میں دوبارہ بادشاہ بنایا گیا۔
  • صحت خراب ہونے کے باعث سہانوک نے 2004 میں تخت دوبارہ چھوڑا۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے سہامونی کو بادشاہ بنایا گیا۔ وہ ایک بیلے ڈانسر ہیں۔
  • سہانوک نے اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال زیادہ تر ملک باہر ہی گزارے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔