تھری ڈی پرنٹر سے بنے تلوے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 16:19 GMT 21:19 PST

میڈیا پلئیر

دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو چلنے میں مدد کے لیے خاص تلوؤں اور سہارا دینے والے سپلنٹس کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں بنانے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اب گلاسگو کی ایک یونیورسٹی نے تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے بہتر تلوے ایک ہی دن میں تیار کیے ہیں۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو چلنے میں مدد کے لیے خاص تلوؤں اور سہارا دینے والے سپلنٹس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اپنے لیے مخصوص تلوے بنوانے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اب گلاسگو کیلیڈونین یونیورسٹی میں ایک ٹیم تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے بہتر تلوے ایک ہی دن میں بنانے لگی ہے۔ نامہ نگار ایلنور بریڈفورڈ کی رپورٹ پیش کر رہی ہیں مہوش حسین

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔