’چاچا پاکستان‘ کے انتقال پر واہگہ سوگوار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST

میڈیا پلئیر

مہر دین کے، جنہیں ’چچا پاکستان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، انتقال پر واہگہ بارڈر پر عجیب سوگواری ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

چاچا پاکستان کے انتقال سے واہگہ بارڈر پر عجیب سوگواری ہے۔

مہر دین جنہیں ’چچا پاکستان‘ بھی کہا جاتا تھا، برس ہا برس رینجرز کے جوانوں کے ساتھ اس تقریب میں عوام کا جذبہ ابھارتے رہے۔

نوے برس کی عمر، سفید داڑھی، جھریوں سے بھرا چہرا، ہر شام مہر دین پاکستان کا پرچم ہاتھ میں تھامے سبز رنگ کا کرتہ پہنے چالیس کلومیڑ کا فاصلہ طے کر کے واہگہ پہنچتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی یا بارش شاید ہی کوئی دن ہو کہ بابا مہر دین پریڈ کرنے والے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور پرچم اتارنے کی تقریب کے لیے سرحد پر نہ آئے ہوں۔

ان کے اسی جذبے کو دیکھتے ہوئے انہیں عوام نے’ چاچا پاکستان‘ کا خطاب دیا تھا۔

شمائلہ جعفری کی رپورٹ۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔