بچوں سے متعلق قانون میں ترمیم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 17 نومبر 2012 ,‭ 03:34 GMT 08:34 PST

میڈیا پلئیر

پاکستان کی حکومت نے بچوں سے متعلق قانون میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت دہشت گردی میں ملوث بچوں کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کی حکومت نے بچوں سے متعلق قانون میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت دہشت گردی میں ملوث بچوں کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔

یہ منظوری گزشتہ بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔ تاحال حکومت نے اس خبر کی تفصیل جاری نہیں کی ہے اور بی بی سی کو ملنے والے سرکاری دستاویز سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ایک سمری پیش کی اور کہا کہ دہشت گردی کی اکثر وارداتوں میں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے اس لیے یہ قانون سازی ضروری ہے۔ جس کی کابینہ نے منظوری دے دی۔ بعض ماہرین اس قانون آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے بچوں کے متعلق کنوینشن سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ مزید تفصیل اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کی اس خصوصی رپورٹ میں۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔