X-37B: امریکی فوج کا خفیہ خلائی جہاز

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 06:52 GMT 11:52 PST
  • X-37B آربیٹل ٹیسٹ جہاز امریکی فضائیہ کا بغیر پائلٹ کا خلائی جہاز ہے۔ اس جہاز کا مقصد کیا ہے اس کو صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ (تصویر امریکی فضائیہ)
  • اس خلائی جہاز کی تیاری بائیس اپریل 2010 میں ہوئی۔ تبھی سے اس جہاز کے مشن کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ قیاس آرائیوں میں کوئی کہتا ہے کہ یہ سیٹیلائٹ کے خلاف ہتھیار ہے اور تو کوئی کہتا ہے کہ یہ جاسوس طیارہ ہے۔ (تصویر بوئنگ)
  • اس جہاز کو ابتدا میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے بطور X-40 بنایا تھا جو تجرباتی جہاز تھا۔ اس کو 2004 میں امریکی فوج کے حوالے کیا گیا اور تب ہی سے یہ ایک خفیہ پراجیکٹ بن گیا۔ (تصویر ناسا)
  • سامنے سے X-37B کی کچھ خصوصیات سپیس شٹل جیسی ہی ہیں جیسے کہ تھرمل ٹائلز۔ (تصویر بوئنگ)
  • اس کی شکل اور سامان رکھنے کی جگہ بھی سپیس شٹل جیسی ہے۔ (تصویر بوئنگ)
  • تاہم اس جہاز کا حجم سپیس شٹل کے حجم کا چوتھا حصہ ہے۔ اور یہ جہاز اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ خود ہی مدار سے نکلے اور لینڈ کرجائے۔ (تصویر امریکی فضائیہ)
  • جب تین دسمبر 2010 کو X-37B زمین پر واپس آیا تو یہ پہلا بغیر پائلٹ کا جہاز تھا جو خلا میں گیا اور خود زمین پر واپس آیا۔ (تصویر بوئنگ)
  • اس جہاز کی لانچ ایٹلس 5 راکٹ کے لانچر سے کیا جاتا ہے۔ لیکن آغاز میں اس کو ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اس کو اس جگہ سے لانچ کیا جائے جہاں سے سپیس شٹل لانچ کی جاتی تھی۔ (تصویر بوئنگ)
  • اس کو نچلے مدار میں رہنے کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یعنی کرہ ارض سے 800-180 کلومیٹر اونچائی پر اور اس کی رفتار 28000 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو۔
  • اگرچہ امریکی فضائیہ نے کہا تھا کہ یہ جہاز 270 روز تک کا مشن مکمل کر سکتا ہے لیکن اس سال جون میں اس جہاز نے 469 روز کا مشن مکمل کیا۔ (تصویر امریکی فضائیہ)

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔