الاسکا کے جنگل میں ریچھوں کی لڑائی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 15:37 GMT 20:37 PST
  • جاپانی فوٹوگرافر شوگو اساؤ جنوبی الاسکا کے کیٹمائی نیشنل پارک میں رہ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ پارک میں رہنے والے دو اہم جانوروں ریچھ اور سامن مچھلی کی زندگی کے مختلف لمحات کی تصاویر بنا سکیں گے۔
  • شوگو اساؤ نے اس جگہ ایک آبشار کے پاس کچھ دیر رک کر دو گرزلی ریچھوں کا مشاہدہ کرنا شروع کیا جہاں اکثر سامن مچھلی کا شکار کرتے ہوئے ریچھ دکھائی دیے تھے۔ انھوں نے ’اچانک ان دو ریچھوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کو دیکھ رہے اور دھاڑ رہے تھے۔‘
  • ایک ریچھ نے مجھ سے چند میٹر دور دوسرے ریچھ کے منہ سے مچھلی چھیننے کی کوشش کی اور اس کی جانب لپکا۔
  • اس کے بعد دونوں ریچھ آبشار سے کچھ دور ہوئے اور جنگل میں جا کر لڑنے لگے۔
  • دونوں نر ریچھ جن کا قد دو اعشاریہ پانچ میٹر کے قریب تھا، اگلے پندرہ منٹ تک ایک دوسرے کو پنجے مارتے اور کاٹتے رہے اور ساتھ ساتھ دھاڑتے بھی رہے۔
  • اساؤ کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلی بار ایسا منظر دیکھا تھا، ’میں دونوں جانوروں کے اتنا قریب تھا کہ جب تک دونوں جنگل میں غائب نہیں ہو گئے میں ساکت بیٹھا رہا۔‘
  • اگرچہ دونوں جانور کافی دیر لڑتے رہے مگر ان کے جسم پر کسی قسم کے زخموں کے نشانات نہیں ہیں نظر آئے۔
  • نیشنل پارک کی انتظامیہ کے مطابق اس پارک میں بھورے ریچھوں کی بہت متنوع آبادی پائی جاتی ہے جن کی تعداد اکیس سو کے قریب ہے۔ اتنی بڑی تعداد کی ایک وجہ سامن مچھلیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہے۔
  • کیٹمائی نیشنل پارک کو انیس اٹھارہ میں بنایا گیا تاکہ مشہور ’دس ہزار دھویں کی وادی‘ کو بچایا جا سکے۔ دس ہزار دھویں کہلانے کی وجہ اس علاقے میں نوواروپٹا کے آتش فشاں اور دوسرے کئی آفش فشاں ہیں۔ نوواروپٹا کا آتش فشاں انیس سو بارہ میں پھٹا تھا جس نے سات سو فٹ راکھ کا غبار فضا میں پھینکا تھا۔ اسی طرح اس علاقے میں صاف شفاف پانی، بے انتہا مچھلیوں اور جنگلات کا ذخیرہ انھیں ریچھوں کے لیے بہت موزوں بناتا ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔