یونیسف فوٹوز آف دی ایئر 2012

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 04:37 GMT 09:37 PST

یونیسف فوٹو آف دی ایئر 2012

  • الیسیو رومنزی/ یونیسف
    اطالوی فوٹوگرافر الیسیو رومنزی کی اس تصویر کو مقابلے کی بہترین تصویر قرار دیا گیا جس میں شام کے شہر حلب میں ایک ہسپتال کی انتظارگاہ میں موجود ایک بچی کو دکھایا گیا ہے
  • دوسرا انعام بھارتی فوٹوگرافر ابھیجیت نندی کے فوٹو پراجیکٹ ’تنی ہوئی رسی پر زندگی‘ کو ملا۔ اس موضوع پر ابھیجیت نے اترپردیش، بہار اور راجستھان کے بےگھر بچوں کے مسائل کی تصویر کشی کی
  • ناروے کے آندرے جیسٹ وینگ تیسرے نمبر پر آئے۔ انہوں نے اوسلو اور جزیرہ یوٹویا میں آندریس بریوک نامی حملہ آور کی فائرنگ کا شکار ہونے والے افراد کے پورٹریٹ بنائے۔
  • ڈنمارک کے لیرک پوسلٹ نے اس تصویر کے لیے چوتھا انعام حاصل کیا جو اس ٹی وی سیریز سے متاثر ہو کر کھینچی گئی جس کا موضوع کمسن بچیوں کی مقابلۂ حسن کے لیے تیاری تھا
  • اٹلی کے ایلکس میسی سمیت متعدد فوٹوگرافرز کو حوصلہ افزائی کا انعام ملا۔ میسی نے 1984 کے بھوپال گیس سانحے کی یادداشتیں اپنے کیمرے میں قید کیں
  • آسٹریلوی فوٹوگرافر ڈینیئل بریہولاک نے بھارتی ریاست میگھیالہ میں جینتیا کی کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے بچوں کو اپنا موضوع بنایا
  • آندریا دیفنبیک کی تصویر کا عنوان ’گھر میں چھوڑ دیے گئے بچے‘ تھا جس میں مالدووا میں یتیم بچوں کی تصویری کہانی بیان کی گئی ہے
  • ایرانی فوٹوگرافر حسین فاطمی نے صومالیہ میں بچوں پر جنگ کے اثرات عکس بند کیے۔ تصویر میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں روزانہ کی مشکلات پر نظر ڈالی گئی ہے
  • برطانوی فوٹوگرافر میشل سینک کی تصویر کا عنوان ’اپنے جسم پر میرا حق ہے‘ تھا۔
  • مئی دو ہزار گیارہ میں جرمن فوٹوگرافر کرسچین ورنر کو ترکی کے مقبول ترین سرجن کمان ازکان کا کام عکس بند کرنے کا موقع ملا
  • امریکہ میں مقیم روسی فوٹوگرافر ڈیانا مارکوسین نے چیچن جمہوریہ میں لڑکیوں پر مذہبی اثرات کو عکس بند کرنے کی کوشش کی
  • حوصلہ افزائی کا آخری انعام سویڈن کے آسا سٹرام کو گھانا کی ان خواتین کی تصاویر پر دیا گیا جن پر جادو ٹونے کا الزام لگایا جاتا ہے

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔