قیامت کی افواہ پر لوگوں کا ردعمل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 16:56 GMT 21:56 PST

مایا کیلنڈر کا خاتمہ

  • کہا جاتا ہے کہ دنیا کا ہر دسوں شخص اکیس دسمبر کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ ہولی بیلونز اور ان کے شوہر جے بیلونز اپنے دوستوں کے ہمراہ کسی ایسی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں جب کائنات کی تباہی کی صورت میں انہیں خود ہی اپنا خیال رکھنا ہوگا۔
  • ذرائع ابلاغ کے نمائندے فرانس کے اس بلند پہاڑی مقام بغارچ میں جمع ہیں جہاں کچھ لوگوں کے خیال میں کائنات کی تباہی کی صورت میں ایک یو ایف او انہیں وہاں سے بچا لے جائے گا۔
  • ایک ترک پولیس اہلکار مغربی قصبے سرنس میں کھڑا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مایا کیلنڈر کےخاتمے کےساتھ دنیا میں آنے والی قیامت سے بچنے کےلیے یہی بہترین مقام ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے بی بی مریم اسی مقام سے جنت کو روانہ ہوئی تھیں۔
  • سرنس کے تاجراس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیاحوں کے لیے ایسی اشیا اکٹھی کر رکھی ہیں جو انہیں یوم آخرت کی یاد دلائیں گی۔
  • دسمبر 2012 میں قیامت کی کہانی انسانی تاریخ کی سب زیادہ پھیلائی جانے والی افواہ ہے۔ اس افواہ کے پھیلانے میں ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ نے اہم کردار ادا کیا۔
  • چینی پولیس نے پانچ سو ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے جو دنیا کے خاتمے کی افواہیں پھیلا رہے تھے۔ چوبیس نومبر کو چین کے شہر ارومچی میں بنائی جانے والی یہ تصویر اس کشتی کی ہے جسے اس کے مالک نے اپنی زندگی کی جمع پونچی کو خرچ کرکے بنایا تاکہ گھر کو ڈوبنے کی صورت میں اس کشتی میں سوار ہو کر زندگی بچا لے۔
  • مایا کیلنڈر کےمطابق اکیس دسمبر کو دنیا ختم ہو جائےگی۔ بعض تہذیبوں میں اس دن کو سردیوں کے اندھیرے کا خاتمے اور روشنی کی واپسی سے جوڑا جاتا ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔