چین میں تیز ترین ٹرین کا طویل ترین نیٹ ورک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST

میڈیا پلئیر

چین میں تیز ترین ٹرین کے طویل ترین نیٹ ورک کا افتتاج

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

چین میں دارالحکومت بیجنگ اور جنوبی تجارت شہر گوانگ ژاہو کے درمیان دنیا کی تیز رفتار ترین ٹرین کا سرکاری طور پر افتتاح کر دیا گیا ہے۔

پہلی بلُٹ ٹرین نے بدھ کی صبح بیجنگ سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ابتدائی دنوں میں بلُٹ ٹرین تین سو کلو میٹر یا ایک سو ستاسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنا سفر طے کرے گی۔ جس کی وجہ سے دارالحکومت بیجنگ اور گوانگ ژاہو کے درمیان سفر کا وقت نصف سے بھی کم رہ جائے گا۔

چینی حکام اس روٹ کو جسے کے کچھ حصوں پر پہلے ہی ٹرین سروس شروع کی جا چکی ہے دنیا میں جدید ترین ٹرین سروس کا طویل ترین نیٹ ورک قرار دے رہے ہیں۔

دو ہزار دو سو اٹھانوے کلو میٹر طویل اس سفر میں ٹرین پینتس ریلوے سٹیشنوں پر رکے گی۔ اس کے راستے میں ووہان اور چنگسا جیسے بڑے شہر بھی آتے ہیں۔

ماضی میں یہ سفر بائیس گھنٹوں میں طے ہوتا تھا جو اب بلٹ ٹرین کے ذریعے صرف دس گھنٹوں میں طے ہو جائےگا۔

چین کے سرکاری ذارئع ابلاغ کے مطابق اس ٹرین کا افتتاح چھبیس دسمبر کو چین کے عظیم رہنما ماؤ زےتنگ کے یوم پیدائش کے موقع پر کیا گیا ہے۔

چین اپنے وسیع و عریض ملک میں بلٹ ٹرین کی ریلوے لائن کو وسعت دینے کی کوشش میں ہے۔

لیکن یہ بڑے بڑے منصوبوں بھی تنازعات سے بچے ہوئے نہیں ہیں۔

گزشتہ سال موسم گرما میں مشرقی صوبے ژنگجیانگ میں ایک ٹرین حادثے میں چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تیز رفتار ٹرین کے پورے منصوبے میں کرپشن کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔

.

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔