دہلی میں سکیورٹی اور مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 08:34 GMT 13:34 PST
  • بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون ی موت کی اطلاع کے بعد دلی میں بڑی تعداد میں لوگ مظاہروں کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مظاہروں کے پیش نظر دلی میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
  • لوگ احتجاج کے لیے پارلیمنٹ کے نزدیک واقع جنتر منتر کے مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
  • صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’بھارتی قوم ملک کی اس جرات مند بہادر لڑکی کی موت پر سوگوار رہے گی‘۔
  • وزیر داخلہ سوشیل کمار شنڈے نے کہا ہے کہ دلی اجتماعی ریپ معاملے میں تیزی سے کارروائی ہوگی اور انھوں نے ایک ماہ کے اندر ہی رپورٹ پیش کرنے کی بات کہی ہے۔
  • دلّی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے کہا ’آخر کیا ہے ہمارے سماج میں کہ اس طرح کا قابل نفرت واقعہ ملک کے دارالحکومت میں ہوا۔‘ انہوں نے لوگوں سے پر من رہنے کی اپیل کی ہے۔
  • دلی کا وسطی علاقہ ایک سکیورٹی قلع میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان وسطی علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔
  • تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میٹرو کے دس سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔
  • انڈیا گیٹ پر کسی طرح کے مظاہرے اور احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
  • ماؤنٹ الزبتھ ہسپتال کے چیف ایگزیکیٹیو کیون لوہ نے مزید کہا کہ ’ہم بڑے دکھ سے اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ 29 دسمبر کی رات پونے پانچ بجے انتقال کر گئیں۔ ان کی موت پرسکون تھی۔ ان کے خاندان کے افراد اور بھارتی ہائی کمیشن کے افراد ان کے ساتھ موجود تھے۔‘
  • دلی میں ریپ کا یہ واقعہ 16 دسمبر کی رات پیش آیا تھا جب ایک بس میں سوار کچھ افراد نے خاتون سے جنسی زیادتی کی اور پھر انھیں ان کے ساتھی سمیت چلتی بس سے باہر پھینک دیا۔
  • اس واقعے کے بعد پولیس نے چھ افراد کو گرفتار اور دو پولیس اہل کاروں کو معطل کر دیا ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔