بھارت کا زیرِانتظام کشمیر سال 2012 میں

آخری وقت اشاعت:  پير 31 دسمبر 2012 ,‭ 13:17 GMT 18:17 PST

کشمیر 2012 ، تصویروں میں

  • بظاہر کشمیر میں سکون ہے اور سیاحوں کے ساتھ ساتھ فلمی ستارے بھی کشمیر میں شوٹنگ اور سیر کر رہے ہیں۔
  • سیاحوں کی آمد اور حکومتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مسلح تصادموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
  • کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی رتن ٹاٹا اور راہُل بجاج سمیت کئی صنعت کاروں کے ہمراہ کشمیر آئے اور ہزاروں نوکریوں کا اعلان کیا۔
  • آتشزدگی کی پراسرار وارداتوں میں کشمیر کی کئی اسلامی خانقاہوں کو نقصان پہنچا۔ حکومت کہتی ہے کشمیر میں فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ ہے، لیکن علیحدگی پسند اسے ایک سازش سمجھتے ہیں۔
  • جنوبی کشمیر کی پہاڑی پر واقع ایک گُفا کے درشن کے لیے لاکھوں ہندو یاتری کشمیر آتے ہیں۔ گھپا تک باقاعدہ سڑک کی تعمیر کو ماحولیات کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔ علیٰحدگی پسندوں نے اس کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
  • کشمیر میں بچوں کو پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر میں حکومت سولہ سال والوں کو بالغ سمجھتی ہے۔
  • کشمیر میں بائیس سال سے قائم سیکورٹی فورسز کے کئی بنکر ہٹائے گئے۔ حکومت نے اب فوج میں کمی اور فوجی اختیارات کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔
  • انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں جبری خاموشی ہے۔ ان اداروں نے فوجی زیادتیوں متعلق کئی رپورٹیں جاری کیں۔انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے بھی اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا۔
  • کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ سڑک کے حادثوں میں مسلح تشدد کے مقابلے زیادہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔
  • اجمل قصاب کی پھانسی کے بعد کشمیر میں عسکریت پسند افضل گورو کی پھانسی منسوخ کا مطالبہ شدید ہوگیا۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔