’اب بات تو مختلف سمت میں ہوئی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 16:27 GMT 21:27 PST

میڈیا پلئیر

کالم و تجزیہ نگار ایاز امیر نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فوج کے حوالے اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ کم از بات تو اور الفاظ اور مختلف سم

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستانی فوج کی جانب سے شائع کردہ نئے فوجی نظریے یا ’آرمی ڈاکٹرِن‘ میں تبدیلی پر کالم و تجزیہ نگار ایاز امیر نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نظریے میں سال دو ہزار ایک کے فوری بعد ایک دم یہ تبدیلی لانی چاہیے تھی اور اس میں تاخیر کرنے اور افغان سرحد، قبائلی علاقوں کے حوالے سے ڈبل ٹریک پر چلنے سے مسائل اور نقصان ہوا اور ہمیں اسی وقت اپنا ذہن صاف کرنا چاہیے تھا اور اس میں کم نے تاخیر زور کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج اس وقت ایک مختلف جنگ میں مبتلا ہے جو ایک اور نوعیت کی اور مغربی سرحد پر ہے اور اب آہستہ آہستہ اس کا بیان کرنا ہی ہماری فوج کے حوالے اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ کم از بات تو اور الفاظ اور مختلف سمت میں ہو رہی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔