’ملا نذیر پاکستان کیلیے خطرہ نہیں اثاثہ تھے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST

میڈیا پلئیر

مصنف اور تجزیہ کار عارف جمال کا کہنا ہے کہ ملا نذیر کی ہلاکت در اصل پاکستان فو ج کا نقصان ہے۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان میں شدت پسندی کے حوالے سے لکھی گئی کتاب’ شیڈو وار: دی ان ٹولڈ سٹوری آف جہاد اِن کشمیر‘ کے مصنف عارف جمال کا کہنا ہے کہ ملا نذیر کی ہلاکت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ یہ تو درحقیقیت پاکستان فوج اور افغانستان میں ’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ ڈھونڈنے والوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

بی بی سی اردو کے پرو گرام سیربین میں گفتگو

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔