اسلام آباد میں کنٹینروں کا اجتماع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 18:07 GMT 23:07 PST
  • پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے طاہرالقادری کے چودہ جنوری کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے
  • اس طریقے کے تحت ٹریفک پولیس اور تھانوں میں تعینات پولیس اہلکار کنٹینروں کے ڈرائیوروں کو یہ کہہ کر بند کر رہے ہیں کہ ’اُن کے کنٹینر میں بارودی مواد موجود ہے‘۔
  • ان پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کیا گیا ہے جو مختلف علاقوں سے سازوسامان لے کر آنے والے کنٹینروں کے ڈرائیوروں کو زبردستی اور بعض اوقات اسلحہ کے زور پر روک لیتے ہیں
  • طاہر القادری کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وہاں کی ضلعی انتظامیہ نے سکینرز ہٹا کر ’محفوظ مقام‘ پر منتقل کر دیے ہیں
  • اسلام آباد پولیس نے ان ڈرائیوروں پر نظر رکھنے کے لیے وہاں پر پولیس اہلکار بھی تعینات کردیے ہیں
  • اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک سو سے زائد کنٹینروں کو اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ روکنے میں کامیاب ہوئی ہے
  • ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق انہیں پانچ سو کے قریب کنٹینروں کو روکنے کا کہا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے رکھے جائیں گے
  • چیف کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کنٹینروں کے مالکان کو کرایہ ادا کیا جائے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کنٹینر مالکان کو کتنی رقم ادا کی جائے گی
  • چیف کمشنر اسلام آباد کے مطابق پولیس کے سربراہ اور دیگر افسران کنٹینروں کے مالکان سے اس حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔