باجوڑ امن کا جزیرہ بنے گا؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 15:04 GMT 20:04 PST

میڈیا پلئیر

اردگرد کے علاقوں میں طالبان حملوں کے ہوتے ہوئے کیا باجوڑ امن کا جزیرہ ثابت ہوسکتا ہے؟ ہارون رشید کی رپورٹ۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سول و فوجی حکام پراعتماد ہیں کہ شدت پسندوں کو نکالنے کے بعد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن مغرب میں افغانستان کے کنہڑ صوبے، جنوب میں مہمند ایجنسی اور مشرق میں ملاکنڈ جیسے علاقوں میں طالبان حملوں کے ہوتے ہوئے کیا باجوڑ امن کا جزیرہ ثابت ہوسکتا ہے؟ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے باجوڑ کا دورہ کر کے یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔