دنیا میں عدم مساوات کی تصاویر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 12:29 GMT 17:29 PST
  • عالمی بینک نے دس مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافروں کی تصاویر کو ایک مقابلے ’عدم مساوات کی تصویر‘ کے لیے منتخب کیا گیا۔ فوٹوگرافر جوان کروز زورزولی کی اس تصویر میں ایک لڑکی بغیر پہیوں کے سائیکل چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
  • اس مقابلے میں شرکت کرنے والے فوٹوگرافروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ’ترقی پذیر ممالک میں مواقعوں میں موجود خلا کے بارے میں تصاویر بنائیں۔ ترقی پذیر سے مراد ایسے ممالک ہیں جو عالمی بینک کی امداد کے اہل ہیں۔ اس تصویر میں ہوان سبیسشن لوزانو نے کولمبیا میں لڑکوں کو ان کی کھلونا بندوق کے ساتھ دکھایا ہے، ان کے مطابق ’چند عوامل کے باعث وہ کچھ سالوں بعد حقیقی بندوقیں تانے کھڑے ہوں گے۔‘
  • اس مقابلے کے لیے چھتیس تصاویر عوامی ووٹ کے ذریعے آخری مرحلے کے لیے منتخب کی گئی تھیں، جن میں سے جیتنے والوں کو ایک پینل نے منتخب کیا۔ اس تصویر میں فلپائن کے مقامی ایٹا قبائل کے لوگ پیناٹوبو کے آتش فشاں کے پھٹنے اور میڈیا کی توجہ کے بعد جب امداد آنا بند ہو گئی تب بھی فوٹوگرافر رابرٹ جون کیباگنوٹ کے مطابق غربت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
  • کینیڈا سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر مارک ایلسن نے یوگینڈا میں ان لوگوں کی زندگی پر نظر ڈالی جو ایچ آئی وی کے خطرے میں میں زندگی بسر کرتے ہیں مگر اس تصویر میں نظر آنے والی کرسٹین خوش قسمت ہیں کیونکہ ان کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
  • ریس اولواٹوسن اولادونی کی تصاویر کا محور انتہائی برا طرزِ رہائش تھا جس کا حل ان کے مطابق ’کم خرچ کی رہائشی سکیموں کا اجرا جہاں لوگ رہ سکیں اور ایک متوسط زندگی گزار سکیں۔‘
  • فرانس سے تعلق رکھنے والی قلوپطرہ ڈی بینیڈیٹو نے نیپال میں بچوں سے مشقت کے معاملے کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق ’بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ پتھروں اور اینٹوں سے کھیل کر عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں جس کے کچھ عرصے بعد ہی وہ اصل میں کام بھی شروع کر دیتے ہیں‘۔
  • سری لنکا سے جیتنے والی تصویر میں ایک سترہ سالہ سیانتھن تھیویراج نے ایک بچے کی سڑک کے کنارے ناریل بیچتے کی تصویر بھیجی جس میں ان کے مطابق یہ بچہ ان کی طرح سکول جانے کی اہلیت نہیں رکھتا جس کے نتیجے میں ایک دن وہ شاید کوئی اچھا روزگار حاصل کر سکے۔
  • نراج پرساد کوئرالہ نے نیپال سے یہ تصویر بھجوائی جس میں تعلیم سے محرومی کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے ان کے مطابق ’بہت سے نوجوان غربت کی وجہ سے نیپال میں سکول نہیں جا سکتے۔‘
  • ماسکو سے ماریہ زیلیخوسکایا اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کبھی بھی مکمل طور پر مساوی نہیں ہو گی، ان کی تصویر ’ویتنام 2 ‘ میں ویتنام کے شہر ہو چی منہ کے ایک مصروف بازار میں ایک بچہ کنبل پر لیٹا ہے۔
  • قاہرہ کی سڑک پر پیٹے اس بچے کی تصویر امریکہ سے تعلق رکھنے والی مورین شیلی دباغ نے کھینچی تھی۔ مورین انسانی ضروریات کے بارے میں بات چیت بڑھانے کے حق میں ہیں ان کے مطابق ’شاید میری یہ تصویر کسی کو توجہ حاصل کر پائے اور کچھ دیر کے لیے کر پائے جس کے نتیجے میں وہ یہ پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’بات چیت تبدیلی کا آغاز ہے‘۔
  • ابیجیل جینیریلیا نے یہ تصویر احتجاج کرنے والے ان فلپائنی کسانوں کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ کی ہے جو کہ زرعی اصلاحات کے شعبے کے باہر لگا ہے۔ ان کسانوں نے یہ کیمپ اپنے غصے کے اظہار کے لیے لگایا تھا جو زرعی اصلاحات میں تاخیر پر اپنے غصے کا اظہار کر رہے تھے۔ یہ تمام تصاویر ورلڈ بینک کی ہیں۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔