افغانستان سے نیٹو فورسز کا انخلاء شروع

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 15:19 GMT 20:19 PST
نیٹو کنٹینرز (فائل فوٹو)

نیٹو ممالک کے سربراہ اجلاس میں دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے انخلا کی بات کہی گئي تھی

افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلا کے پہلے مرحلے کا اغاز ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں اتحادی افواج کے تیرہ کنٹینرز اب تک پاک افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔

پاک افغان سرحدی علاقے تورخم میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کا پہلہ مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طورپر نیٹو فورسز کے سازو سامان پر مشتمل پچیس کنٹینرز افغانستان سے پاکستان کے راستے کراچی جائیں گے جن میں اب تک تیرہ کنٹینرز پاک افغان سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوچکے ہیں۔

کسٹم حکام نے بھی تصدیق کی کہ اب تک افغانستان سے آنے والے کئی نیٹو کنٹینرز کی ضروری چیکنگ کے بعد کلئیرنس دی دی گئي ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کنٹینرز موٹروے کے ذریعے کراچی کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔

مقامی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث کنٹینرز کی تعداد کم رکھی گئی ہے اور روزانہ پانچ سے چھ کنٹینرز افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

انخلاء

"گزشتہ سال امریکہ کے شہر شگاگو میں نیٹو ممالک کا ایک سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دو ہزار چودہ کے اواخر تک اتحادی ممالک کی افواج افغانستان سے انخلا کا عمل پورا کرے گی"

تاہم دوسری طرف خیبر ایجنسی کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے نیٹو کنٹینرز کو کوئی خاص سکیورٹی حاصل نہیں ہے۔

اس سے پہلے نیٹو فورسز کو سامان لے جانے والی ٹرکوں اور آئل ٹینکروں پر پشاور اور قبائلی علاقوں میں متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں۔ طالبان تنظمیں وقتاً فوقتاً ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال امریکہ کے شہر شگاگو میں نیٹو ممالک کا ایک سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دو ہزار چودہ کے اواخر تک اتحادی ممالک کی افواج افغانستان سے انخلا کا عمل پورا کرے گی۔

ادھر افغانستان میں نیٹو افواج کے سبکدوش ہونے والے کمانڈر جنرل جان ایلن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اتحادی افواج افغانستان میں طالبان کے خلاف فتح حاصل کرنے کی راہ پر ہیں اور وہاں سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء کے امکان نہیں ہے۔

جنرل جان ایلن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج نے طالبان کی جانب سے جاری بغاوت پر قابو پانے کے لیے بہت آگے جا کر حالات پیدا کیے ہیں۔

افغانستان میں ان کے انیس ماہ کے دور میں افغان افواج اور پولیس کو افغانستان بھر میں سکیورٹی کے انتظامات کی سپردگی کا عمل بہت حد تک تیز ہوا۔

جنرل ایلن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کے امریکی فوجیوں کی موجوگی نہ ہونے کا امکان بالکل کم ہے اور مکمل انخلا کا کوئی خیال نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس معاملے کے لیے کسی قسم کی ممکنات پر غور کے لیے کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔