رنگ اور لفظ کی بارش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 11:18 GMT 16:18 PST

شاعری کی کتابوں پر مصوری کی روایت پرانی ہے، لیکن اکثر اوقات پہلے کتاب چھپتی ہے، بعد میں اس کا مرقع ایڈیشن شائع ہوتا ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی منفرد کتاب منظرِ عام پر آئی ہے جس میں شاعری اور مصوری دونوں ساتھ ساتھ تخلیق کیے گئے ہیں۔ عطا تراب کی کتاب ’بارش کے شریک‘ میں شامل نظموں اور شعروں کو مصورہ فائزہ خان نے اس عمدگی سے رنگوں میں ڈھالا ہے کہ یوں لگتا ہے دونوں اصناف میں حائل دیواریں فن کی گرمی سے پگھل گئی ہیں۔

لفظ و رنگ کی بارش

  • نمائش

    رنگ اڑتے ہوئے دیکھے ہیں گلابوں کے تراب

    وہ پری چہرہ تھا پھولوں کی نمائش میں شریک

  • غیرت کے نام پر

    ستم ظریف عہد ہے

    سگانِ کم نژاد

    بھیڑیوں سے رابطوں کی

    تہمتیں لگا کے

    آہوانِ خوش جمال

    کا شکار کر رہے ہیں

  • بچی کے اسقاط پر

    تم نے وہ تصویر مٹا دی

    جس میں دھرتی ماں کے دلکش رنگ بھرے تھے فطرت نے

    تم نے اپنی ماں سے خیانت کی ہے، اف!

    تم پر تف!

  • Blasphemy

    یہ کیسی پاک دھرتی ہے

    جہاں شب کے پجاری/ قتل کے فتوے اٹھائے

    دندناتے

    نور کی آیات پڑھتے

    جگنوؤں کا خون کرتے

    منادی ہے

    کہ جگنو جگمگاتے ہیں

    تو سورج دیوتا کی شان و شوکت

    ماند پڑتی ہے

    میں شرمندہ سا شرمندہ سا باشندہ

    مسلسل سوچ میں گم ہوں

    جنھیں جگنو نہیں بھاتے انھیں سورج سے کیا نسبت

  • فراق

    کالی گھٹا کی انگلی تھامے

    دور افق سے

    آ پہنچی ہیں تیری یادیں

    جانے پہلے مینھ برسے گا

    یا تیرے دیدار کی پیاسی آنکھیں!

  • گلِ حیا کی ڈائری کا ایک ورق

    (ملالہ کے نام)

    چمن میں ڈیرے ڈالے ہیں

    یہ کہہ کر کچھ درندوں نے

    کہ تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے ہیں

    کلی کا پھول بننا بھی فحاشی ہے

    فقط پتوں کے برقعے میں تبسم کی اجازت ہے

    کسی کوئل کی کوکو بھی

    غنا کی ذیل میں ہے

    اور خوشبو کا کسی جھونکے کی انگلی تھام کر

    چلنا نہیں جائز

    کہ جھونکے غیرمحرم ہیں

    وگرنہ ہم تمھاری پشت پر درے لگائیں گے

  • ہجر کا مارا دسمبر

    تمھارے لمس کا سورج

    نجانے وقت کے کس گھاٹ اترا ہے

    درختوں کو دریدہ پیرہن کرتی

    زمستانی ہوائیں

    جب اکیلے جسم پر درے لگاتی ہیں

    تمھارے ہجر کا مارا دسمبر

    یوں ٹھٹھرتا ہے

    کہ جیتا ہے نہ مرتا ہے

  • تفریق

    سر کی کوئی سرحد ہوتی

    اور آواز کا مذہب

    تو پھر کیسے ممکن تھا؟

    جب جب نندیا مجھ سے روٹھی/سر دیوی کی آواز میں ڈھل کر

    مجھ کو بانھوں میں بھر لیتی

    سر سہلاتی

    نیند سے میری صلح کراتی

    میہن خواب میں لے جاتی

    تم بھگوان کو ہندو مانو اور خدا کو مسلم

  • میں اپنی حوا

    سے کب کہوں گا

    کہ تجھ سے نادم

    ہے تیرا آدم

  • فراق

    نگارِ حزن کو خبر نہیں

    کہ دشتِ نینوا میں

    ایک اشکِ بے نوا

    ہنوز چشمِ گریہ کن کو رو رہا ہے

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔